North Korean leader Kim Jong Un poses with soldiers as he inspects a tank unit of the Korean People's Army, in this handout picture obtained by Reuters on March 25, 2024. KCNA via REUTERS ATTENTION EDITORS - THIS IMAGE WAS PROVIDED BY A THIRD PARTY. REUTERS IS UNABLE TO INDEPENDENTLY VERIFY THIS IMAGE. NO THIRD PARTY SALES. SOUTH KOREA OUT. NO COMMERCIAL OR EDITORIAL SALES IN SOUTH KOREA.
روس شمالی کوریا سے 30 ہزار فوجی طلب کرنا چاہتا ہے: زیلنسکی
یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے ہفتے کے روز کہا کہ روس چار سال سے جاری جنگ میں مدد کے لیے شمالی کوریا کے 30 ہزار تک مزید فوجیوں کو شامل کرنا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے تیاریاں بھی شروع کر دی گئی ہیں۔
زیلنسکی نے اپنے رات کے ویڈیو خطاب میں کہا:ہم روس اور شمالی کوریا کے درمیان تعاون بھی دیکھ رہے ہیں۔ روس مزید 30 ہزار شمالی کوریائی فوجی لانا چاہتا ہے اور انہیں وصول کرنے کے لیے روسی علاقے وورونیز میں جون (جون) سے تیاریاں جاری ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان دفاعی معاہدے کے تحت شمالی کوریا نے 2024 میں یوکرین کی جانب سے علاقے میں بڑے حملے کے بعد روس کے ساتھ مل کر لڑنے کے لیے تقریباً 14 ہزار فوجی کرسک کے علاقے میں بھیجے تھے۔
دوسری جانب زیلنسکی نے انکشاف کیا کہ شمالی کوریا روس کو بیلسٹک میزائلوں کے لیے نئے لانچر فراہم کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
ان کے مطابق یہ اقدامات ماسکو کے آئندہ موسم خزاں کی فوجی منصوبہ بندی کا حصہ ہیں۔
انہوں نے کہا:یہ خطرہ صرف یوکرین کے لیے نہیں ہے۔ روس شمالی کوریا کو جنگ لڑنے کا طریقہ سیکھنے، اپنے ہتھیار بہتر بنانے اور انہیں حقیقی جنگی حالات میں استعمال کرنے کا تجربہ حاصل کرنے میں مدد دے رہا ہے۔
زیلنسکی نے مزید کہا:یہ سب ایشیا کے ہر اس ملک کے لیے خطرہ ہے جو شمالی کوریا کے میزائلوں کی زد میں آ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یوکرین اس خطرے کا جواب دے گا۔رپورٹس کے مطابق شمالی کوریا نے گزشتہ سال روس اور یوکرین کی جنگ میں حصہ لینے کے لیے 15 ہزار تک فوجی بھیجے تھے۔
ان فوجیوں نے ماسکو کو کرسک کے علاقے میں وہ علاقے دوبارہ حاصل کرنے میں مدد دی جن پر یوکرینی فوج نے اچانک حملے کے دوران قبضہ کر لیا تھا۔
غیر مصدقہ اندازوں کے مطابق کم از کم 2 ہزار شمالی کوریائی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔
ماسکو اور پیونگ یانگ کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کا معاہدہ موجود ہے، جبکہ چند روز قبل دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے بھی اپنے درمیان مضبوط تعلقات اور تعاون کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔