یوکرین کے صدر ولادی میر زیلنسکی
ایرانی آئل ٹینکر پر یوکرینی حملہ، ٹرمپ کے لیے پیوٹن کے خلاف سیاسی پیغام قرار
یوکرین ایک ایرانی مال بردار جہاز کو نشانہ بنانے والی کارروائی کو اس مقصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قائل کیا جا سکے کہ ماسکو اور تہران کے درمیان فوجی تعاون صرف یوکرین جنگ تک محدود نہیں بلکہ امریکی مفادات کے لیے بھی براہِ راست خطرہ بن چکا ہے۔
برطانوی اخبار ''دی ٹیلی گراف'' (The Telegraph) کی رپورٹ کے مطابق جس جہاز کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، وہ روس اور ایران کے درمیان فوجی سامان لے جا رہا تھا کہ اسے ایک یوکرینی ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا۔
حملے کے نتیجے میں جہاز ڈوب گیا اور عملے کا ایک رکن ہلاک ہو گیا۔یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی جب یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی کی امریکی صدر ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات ہونے والی تھی۔
اس اقدام کا مقصد ماسکو اور تہران کے درمیان فوجی تعاون کی شدت کو نمایاں کرنا اور ٹرمپ کو روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے خلاف زیادہ سخت موقف اختیار کرنے پر آمادہ کرنا بتایا جا رہا ہے۔
کیف کا مؤقف ہے کہ ایران کئی برسوں سے روس کو ''شاہد'' ڈرونز فراہم کر رہا ہے، جنہیں یوکرین کے خلاف جنگ میں استعمال کیا جا رہا ہے۔
یوکرین کے مطابق روس اب ان ڈرونز میں زیادہ طاقتور جیٹ انجن لگا کر انہیں مزید جدید بنا رہا ہے اور پھر انہیں ایران کو واپس فراہم کر رہا ہے تاکہ تہران انہیں امریکہ کے خلاف اپنی جنگ میں استعمال کر سکے۔
زیلنسکی نے یہ بھی کہا کہ یوکرینی انٹیلی جنس اداروں نے جولائی کے آغاز سے روسی سیٹلائٹس کی جانب سے خلیجی ممالک اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کی نگرانی کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا ہے۔ ان کے مطابق ان سیٹلائٹس سے حاصل ہونے والی تصاویر بعد میں ایران کو منتقل کی جاتی ہیں۔
اسی دوران اخبار نے ایک مغربی دفاعی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ امریکہ کے ساتھ جنگ بندی کے خاتمے کے بعد ایران نے اپنے حملوں کی درستگی اور اہداف کے انتخاب میں نمایاں بہتری دکھائی ہے۔ ذریعے کے مطابق یہ پیش رفت ممکنہ طور پر روسی حمایت سے بھی منسلک ہو سکتی ہے۔
زیلنسکی کو امید ہے کہ روس اور ایران کے درمیان فوجی اتحاد کو نمایاں کرکے وہ ٹرمپ انتظامیہ کو یوکرین کے لیے مزید امداد فراہم کرنے کی سیاسی گنجائش دے سکیں گے، حالانکہ ''میک امریکہ گریٹ اگین'' (MAGA) تحریک کے حامیوں کا ایک حصہ بیرونِ ملک جنگوں میں امریکی مداخلت کی مخالفت کرتا ہے۔
اسی تناظر میں امریکی قدامت پسند کارکن اور میڈیا شخصیت لورا لومر نے اس ہفتے کیف کا دورہ کیا اور صدر زیلنسکی کا انٹرویو کیا۔ انہوں نے روس پر الزام عائد کیا کہ وہ ایران کو مالی معاونت فراہم کر رہا ہے اور ایسے دھماکا خیز مواد بھی مہیا کر رہا ہے، جو امریکی افواج کے خلاف استعمال کیا گیا۔
دوسری جانب امریکی وزارتِ دفاع نے گزشتہ ہفتے اردن میں ایرانی حملے میں ہلاک ہونے والے تین امریکی فوجیوں کے نام جاری کیے، جبکہ شمالی عراق میں ایک ایرانی ڈرون کو کنٹرولڈ دھماکے کے ذریعے ناکارہ بنانے کی کارروائی کے دوران ایک چوتھا فوجی بھی جان کی بازی ہار گیا۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد سے ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 18 ہو گئی ہے۔اگرچہ ماسکو پر ایران کی حمایت کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں، تاہم صدر ٹرمپ اب بھی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن پر کھل کر تنقید کرنے سے گریزاں ہیں۔
مبصرین کے مطابق یوکرین کو ممکنہ امریکی امداد کا حجم اب بھی MAGA تحریک کے ان حامیوں کے مؤقف سے متاثر ہو سکتا ہے، جو بیرونی تنازعات میں امریکہ کی شمولیت کے مخالف ہیں۔
رپورٹ میں ایرانی جہاز کو نشانہ بنانے کو اس بات کی علامت قرار دیا گیا ہے کہ یوکرین اور ایران سے متعلق جنگیں ایک دوسرے سے جڑتی جا رہی ہیں۔
اسی تناظر میں زیلنسکی کوشش کر رہے ہیں کہ پیوٹن کو دونوں تنازعات میں ایران کی حمایت کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے اور اس مؤقف کو تقویت دی جائے کہ ماسکو ایسی سرگرمیوں کے پیچھے ہے جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی سلامتی کے لیے خطرہ بن رہی ہیں۔