ایک یمنی خاتون اپنے غذائی قلت کے شکار بچے کو اٹھائے ہوئے ہے – آرکائیو – رائٹرز

حوثیوں کی کارروائیاں، یمن کا صحت کا نظام شدید تباہی کے دہانے پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حوثی ملیشیا کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں صحت کے شعبے کو منظم انداز میں نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں طبی خدمات شدید متاثر ہوئیں اور لاکھوں یمنی شہری علاج کی بنیادی سہولت سے محروم ہو گئے۔

یمنی نیٹ ورک برائے حقوق و آزادیاں نے بتایا کہ اس نے یکم جنوری 2020 سے یکم جولائی 2026 کے دوران یمن کے مختلف صوبوں میں حوثی ملیشیا کی جانب سے 6231 خلاف ورزیوں کو ریکارڈ کیا۔ یہ خلاف ورزیاں اسپتالوں، طبی مراکز، ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کے خلاف کی گئیں۔

رپورٹ کے مطابق ان خلاف ورزیوں میں براہِ راست قتل، زخمی کرنا، گرفتاری، جبری گمشدگی، ماورائے عدالت قتل، جسمانی تشدد، اسپتالوں پر گولہ باری، طبی مراکز کی بندش، انہیں دھماکوں سے تباہ کرنا یا فوجی اڈوں میں تبدیل کرنا شامل ہے۔

اس کے علاوہ ادویات اور طبی امداد کی لوٹ مار کرکے انہیں بلیک مارکیٹ میں فروخت کرنے کے واقعات بھی سامنے آئے۔

رپورٹ کے مطابق فیلڈ مانیٹرنگ ٹیم نے 62 طبی کارکنوں کے قتل اور 87 ڈاکٹروں، نرسوں اور امدادی کارکنوں کے زخمی ہونے کے واقعات ریکارڈ کیے، جن کی وجوہات میں براہِ راست گولہ باری، اسنائپر حملے، بارودی سرنگیں، مسلح حملے اور طبی مراکز کو نشانہ بنانا شامل ہیں۔

اسی طرح 167 ڈاکٹروں، نرسوں اور طبی عملے کی گرفتاری یا اغوا اور 19 افراد کی جبری گمشدگی کے واقعات بھی رپورٹ میں شامل کیے گئے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حوثی ملیشیا نے صرف طبی عملے کو ہی نشانہ نہیں بنایا بلکہ صحت کے بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔

اس سلسلے میں 1240 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں، جن میں اسپتالوں اور طبی مراکز پر دھاوے، ان کی بندش، براہِ راست گولہ باری، انہیں فوجی بیرکوں میں تبدیل کرنا، بارودی مواد نصب کرنا، تباہی پھیلانا، لوٹ مار اور ایمبولینسوں کو نشانہ بنانا شامل ہے۔

رپورٹ کے مطابق 732 اسپتالوں، طبی مراکز، کلینکس اور فارمیسیوں کو بند یا ان پر قبضہ کیا گیا، 229 عمارتوں کو جزوی جبکہ 36 کو مکمل طور پر تباہ کیا گیا۔

مزید برآں 137 طبی مراکز پر قبضہ کرکے انہیں فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا، 65 واقعات میں لوٹ مار، 12 میں دھماکا خیز مواد نصب کرکے تباہی اور 29 واقعات میں ایمبولینسوں کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ 689 ایمبولینسیں لوٹ کر انہیں جنگجوؤں اور فوجی سازوسامان کی نقل و حمل کے لیے استعمال کیا گیا۔

اس کے علاوہ 1107 فارمیسیوں کو بند کیا گیا، 18 ادویات کے گودام لوٹے گئے، جبکہ طبی امداد کو رپورٹ کے مطابق ''جنگی مقاصد ''کے لیے استعمال کرتے ہوئے بلیک مارکیٹ میں فروخت کیا گیا، جس سے حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں صحت کا بحران مزید سنگین ہو گیا۔

رپورٹ کے مطابق 569 طبی ملازمین، جن میں ڈاکٹر، نرسیں اور انتظامی عملہ شامل ہے، کو صرف اس وجہ سے ملازمتوں سے فارغ کر دیا گیا کہ انہوں نے حوثی جماعت کے نظریات اپنانے سے انکار کیا۔

اس کے علاوہ صحت کے شعبے سے وابستہ 48 ہزار سے زائد ملازمین کو تنخواہوں سے بھی محروم رکھا گیا، جس کے باعث طبی خدمات کا نظام شدید متاثر ہوا اور بڑی تعداد میں ماہر طبی عملہ ملک چھوڑنے پر مجبور ہوا۔

رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ ادویات اور طبی سامان فراہم کرنے والی تقریباً 200 کمپنیوں اور اداروں کو ہراساں کیا گیا، نجی اسپتالوں پر بھاری مالی مطالبات (بھتہ) عائد کیے گئے، انہیں حوثی ملیشیا کے زخمی جنگجوؤں کا مفت علاج کرنے پر مجبور کیا گیا اور ان پر نگران بھی مقرر کیے گئے۔

یمنی نیٹ ورک برائے حقوق و آزادیاں نے زور دیا کہ یہ واقعات محض انفرادی خلاف ورزیاں نہیں بلکہ ایک منظم پالیسی کا حصہ ہیں، جس کے ذریعے حوثی ملیشیا نے صحت کے شعبے کو اپنے عسکری اور سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں