الرئيس الروسي فلاديمير بوتين (أ ف ب))
ماسکو اور کیف کے درمیان ایک دوسرے پر حملوں کے جاری رہنے کے دوران روسی صدر ولادیمیر پوتین نے پیر کے روز ایک فرمان جاری کیا جس میں روسی مسلح افواج کی تعداد میں اضافے کا حکم دیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کا ملک اپنی تاریخ کے ایک مشکل مرحلے سے گزر رہا ہے۔
روسی خبر رساں ایجنسی "تاس" کے مطابق یہ فرمان اگست کے آغاز سے نافذ العمل ہوگا۔ یہ فرمان روسی مسلح فورسز کی کل تعداد 2,426,130 مقرر کرتا ہے جن میں 1,535,000 فوجی شامل ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ نئی ملٹری کنسٹرکشن یونٹس کے قیام کے ساتھ ساتھ کل تعداد میں 27 ہزار افراد اور فوجیوں میں 25 ہزار کا اضافہ ہوا ہے۔
روسی صدر نے اسٹیٹ ڈوما کے سبکدوش ہونے والے ارکان اسمبلی سے ملاقات کے دوران کہا ہے کہ بین الاقوامی نظام میں آنے والی تبدیلیوں کے سایہ میں ملک اور اس کے عوام کی تقدیر داؤ پر لگ چکی ہے۔
پوتین نے کہا کہ روس کو کئی سالوں سے بڑھتے ہوئے بیرونی دباؤ کا سامنا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ 2014 کے واقعات سے پہلے اور بعد میں ملک کو گھیرنے اور محدود کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ مغرب نے 2022 سے ماسکو کے خلاف پابندیوں کی غیر معمولی مہم تیز کر دی ہے لیکن روس کسی بھی معاندانہ اقدام کا فیصلہ کن جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یوکرین میں جنگ کے حوالے سے روسی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ ماسکو اپنی فوجی کارروائیاں خصوصی فوجی آپریشن کے اہداف حاصل ہونے تک جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ روس کے مخالفین اسے فوجی طور پر شکست دینے میں ناکام رہے لہٰذا انہوں نے دہشت گردانہ طریقوں کا سہارا لے لیا ہے۔
پوتین نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ پورا روسی معاشرہ جنگ میں حصہ لینے والے فوجیوں کے ساتھ کھڑا ہے کیونکہ انہیں ہمارے تمام عوام اور پورے معاشرے کی حمایت حاصل ہے۔ روسی صدر نے مزید کہا کہ خصوصی فوجی آپریشن کے شرکاء اور سینیئر فوجیوں کے ساتھ ساتھ وطن کے محافظوں کے خاندانوں کے لیے قانونی ضمانتوں کا ایک جامع نظام تیار کیا گیا ہے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
باہمی کشیدگی
پوتین کے یہ بیانات کرملین کی جانب سے آج اس بات کی تصدیق کے بعد سامنے آئے ہیں کہ یوکرین میں جنگ کے تصفیے کے لیے فی الحال کوئی نئی تجاویز یا فارمولے موجود نہیں ہیں۔ کرملین کی طرف سے ماسکو اور کیف کے درمیان ممکنہ جنگ بندی کے بارے میں گردش کرنے والی خبروں کو میڈیا کی قیاس آرائیاں قرار دے دیا گیا۔
کرملین نے یوکرینی صدر زیلنسکی کے ان بیانات پر تبصرہ کرنے سے بھی گریز کیا جن میں انہوں نے کہا تھا کہ روس جنگ میں شرکت کے لیے مزید تقریباً 30 ہزار شمالی کوریائی فوجیوں کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے۔
حالیہ دنوں میں روسی حدود کے اندرونی اہداف پر ڈرون کے ذریعے یوکرینی حملوں میں شدت دیکھی گئی ہے جہاں کیف نے اعلان کیا ہے کہ اس نے روس کی جنگی اور توانائی کی صلاحیتوں سے جڑے تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ ان تنصیبات میں سائبیریا کے علاقے تیومين میں واقع ایک آئل ریفائنری بھی شامل ہے۔ یہ حملہ ماسکو کی جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت کو کمزور کرنے کی ایک کوشش ہے۔
دوسری جانب روسی افواج نے مشرقی اور جنوبی یوکرین میں اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھیں ۔ روسی وزارت دفاع نے اعلان کیا کہ فضائی دفاعی نظام نے گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران پانچ گائیڈڈ بم اور 498 یوکرینی ڈرون تباہ کر دیے ہیں۔