Your browser doesn’t support HTML5 video
بیروت ریستوراں کے کیمرے میں کار بم دھماکے کی فلم بندی
شام مخالف جنرل پر حملے کی ویڈیو جاری
اس کیمرے کی فوٹیج کے مطابق جمعہ انیس اکتوبر کو مقامی وقت کے مطابق دوپہر ایک بج کر تریپن منٹ پر کار بم دھماکا ہوا تھا۔ اس کے نتیجے میں ریستوراں کے شیشے کرچی کرچی ہوگئے تھے اور ٹوٹے ہوئے شیشے نزدیک کھڑے ایک شخص پر گرے تھے۔ اس کے بعد وہاں سے گاہک بھاگ کھڑے ہوئے تھے۔
اس کار بم دھماکے میں لبنان کی خفیہ ایجنسی اور پولیس کی انفارمیشن برانچ کے سربراہ بریگیڈئیر جنرل وسام الحسن سمیت آٹھ افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔ بیروت کے وسطی علاقے میں ہوئے اس بم دھماکے میں متعدد کاریں تباہ ہو گئی تھیں اور قریبی عمارتوں کی بالکونیوں کو نقصان پہنچا تھا۔
واضح رہے کہ لبنان کی داخلی سکیورٹی ایجنسی نے اگست میں سابق وزیر اطلاعات مشعل سلامہ کی گرفتاری میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ مسٹر سلامہ شام سے قریبی روابط رکھتے تھے اور ان پر لبنان میں بم دھماکوں کی منصوبہ کرنے اور دھماکا خیز مواد ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔
مقتول جنرل وسام الحسن کی سربراہی میں لبنان کی داخلی سکیورٹی ایجنسی فروری 2005ء میں سابق وزیراعظم رفیق حریری کے قتل کے بعد 2008ء تک ہوئے خودکش کار بم حملوں، قاتلانہ حملوں اور بم دھماکوں میں ملوث افراد کی گرفتاریوں اور ان سے تفتیش کے لیے بھی کام کر رہی تھی۔ لبنان حزب اختلاف نے شامی صدر بشارالاسد پر اس بم حملے میں براہ راست ملوث ہونے کا الزام عاید کیا تھا۔