null
غزہ جنگ بندی کے بعد اسرائیلی فائرنگ سے فلسطینی نوجوان شہید
اسرائیل اور حماس کے درمیان سیز فائر کی پہلی خلاف ورزی
اسرائیلی فوج کی خاتون ترجمان نے اس واقعہ کی تصدیق نہیں کی اور صرف یہ کہا ہے کہ غزہ کی سرحد پر فلسطینی علاقے کی جانب کوئی گڑ بڑ ہوئی تھی جس کے بعد اسرائیلی فوجیوں نے انتباہی فائرنگ کی تھی۔
فلسطینی کی ایمرجنسی سروس نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے غزہ کی پٹی کے گاؤں خوزہ پر فائرنگ کی ہے جس کے نتیجے میں ایک اکیس سالہ فلسطینی نوجوان عبدالہادی انور شہید اور نو [9] زخمی ہو گئے ہیں۔
مصر کی ثالثی کے نتیجے میں حماس اور اسرائیل کے درمیان بدھ کی رات جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا اور اس کے بعد غزہ کی پٹی میں تشدد کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ غزہ ایمرجنسی سروس کے ترجمان اعظم ابو سلمیہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ قابض فوج نے کسانوں کے گروپ پر بلا اشتعال فائرنگ کی ہے۔ وہ اسرائیلی فوج کی ایک تباہ شدہ جیپ کا اسکریپ اکٹھا کر رہے تھے۔ اس دوران صہیونی فوجیوں نے انھیں اپنی گولیوں کا نشانہ بنا دیا۔ شہید عبدالہادی انور کے سر میں گولی ماری گئی تھی۔
حماس کے ترجمان ڈاکٹر سامی ابو زہری نے اسرائیل پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہےکہ وہ سمجھوتے کے ثالث ملک مصر کو اس واقعہ کی اطلاع دیں گے۔انھوں نے کہا کہ ہم مصری ثالثوں سے اس واقعہ کے بارے میں تبادلہ خیال کریں گے۔
غزہ میں حماس کے وزیراعظم اسماعیل ہنئیہ نے تمام فلسطینی مزاحمتی تنظیموں پر زوردیا ہے کہ وہ جنگ بندی سمجھوتے کی پاسداری کریں۔ادھر قاہرہ میں جمعہ کو مصری حکام اسرائیل اور حماس کے ایلچیوں سے جنگ بندی کے اگلے مرحلے کے حوالے سے الگ الگ بات چیت کر رہے ہیں۔ اس کے تحت غزہ کی ناکہ بندی ختم کرنے سے متعلق امور طے کیے جائیں گے۔
حماس کا مطالبہ ہے کہ اسرائیل غزہ کی پٹی کی تمام ناکہ بندی ختم کرے جبکہ صہیونی ریاست کا اس بات پر اصرار ہے کہ حماس علاقے میں زیرزمین سرنگوں کے ذریعے اسمگل کرکے لائے جانے والے ہتھیاروں کو روکے۔
مصر کی ثالثی میں حماس اور اسرائیل کے درمیان طے پائے جنگ بندی کے سمجھوتے پر جمعرات سے عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ علاقے میں اسرائیلی فوج کی ایک ہفتے تک جاری رہی ریاستی دہشت گردی میں ایک سو تریسٹھ فلسطینی شہید اور سیکڑوں زخمی ہوگئے تھے جبکہ فلسطینیوں کے راکٹ حملوں میں چھے اسرائیلی مارے گئے تھے۔