null
شام میں جاری بحران کا اب بھی سیاسی حل ممکن ہے الاخضر الابراہیمی
خانہ جنگی ختم نہ ہوئی تو شام ایک اور صومالیہ بن جائے گا
انھوں نے یہ بات مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں عرب لیگ کے ہیڈکواٹرز میں اتوار کو نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ''شام میں صورت حال بہت خراب ہو چکی ہے۔ حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں، ابتری کی رفتار بہت تیز ہے لیکن جون میں جنیوا میں طے پائے امن منصوبے کے تحت شامی بحران کا حل اب بھی ممکن ہے''۔
انھوں نے کہا کہ ''اگر بحران کا جلد کوئی حل تلاش نہ کیا گیا تو شامی ریاست ختم ہو جائے گی، ملک جہنم زار میں تبدیل ہو کر ایک نیا صومالیہ بن جائے گا۔ اس لیے نئے سال 2013ء میں شامی بحران کی دوسری برسی سے قبل اس کا حل تلاش کیا جانا چاہیے''۔
الاخضر الابراہیمی نے کہا کہ ''لوگ اس وقت شام کے چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بٹنے کی بات کر رہے ہیں۔لیکن ایسا تو نہیں ہوگا بلکہ وہ صومالیہ بن جائے گا اور جنگی سرداروں کا اپنے اپنے زیر قبضہ علاقوں پر کنٹرول ہو گا''۔
واضح رہے کہ جنیوا منصوبے میں جنگی بندی کے بعد نئی حکومت کی تشکیل تجویز پیش کی گئی تھی اوراس کے بعد یہ حکومت نئے صدر یا پارلیمان کے انتخاب کے لیے اقدامات کرے گی لیکن اس میں صدر بشار الاسد کے مستقبل کے حوالے سے کچھ نہیں کہا گیا تھا۔ عالمی امن ایلچی کا صحافیوں سے گفتگو میں کہنا تھا کہ اس منصوبے کی بنیاد پر شام میں امن عمل شروع کیا جا سکتا ہے۔
انھوں نے شام میں خانہ جنگی کا شکار افراد کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت چالیس لاکھ سے زیادہ شامیوں کو فوری امداد کی ضرورت ہے۔ الاخضر الابراہیمی نے گذشتہ ہفتے شام کا پانچ روزہ دورہ کیا تھا اور وہاں صدر بشار الاسد اورشامی حزب اختلاف کے نمائندوں سے ملاقات کی تھی۔انھوں نے گذشتہ روز ماسکو میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف سے شامی بحران کے حوالے سے بات چیت کی تھی۔
انھوں نے گذشتہ روز خبردار کیا تھا کہ شام میں جاری تنازعہ بڑی تیزی سے فرقہ وارانہ شکل اختیار کرتا جا رہا ہے اور اس سے پورا خطہ ہی افراتفری کا شکار ہوسکتا ہے اور خانہ جنگی جاری رہنے کی صورت میں مزید لاکھوں شامی پڑوسی ممالک میں ہجرت پر مجبور ہوں گے۔