Your browser doesn’t support HTML5 video
پورٹ سعید میں مقتولین کی نماز جنازہ کے موقع پر فائرنگ
قاہرہ میں پولیس اور نوجوان مظاہرین کے درمیان جھڑپیں جاری
شہر کی مرکزی جامع مسجد میں مقتولین کی نماز جنازہ کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور فوجیوں کو سرکاری تنصیبات کے تحفظ کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔جنازے میں ہزاروں افراد شریک تھے۔
واضح رہے کہ ہفتے کے روز مصر کی ایک عدالت نے گذشتہ سال پورٹ سعید میں قاہرہ کے الاہلی فٹ بال کے حامیوں کی ہلاکتوں کے مقدمے میں اکیس افراد کو سزائے موت سنائی تھی۔اس فیصلے کا اعلان ہوتے ہی اس شہر میں پرتشدد ہنگامے شروع ہوگئے تھے اور ان میں پینتیس افراد مارے گئے تھے۔بلوائیوں نے اس جیل پر بھی دھاوا بول دیا تھا،جہاں ملزموں کو قید کیا گیا ہے۔انھوں نے شہر میں ایک پولیس اسٹیشن اور سرکاری دفاتر کو بھی نذر اتش کرنے کی کوشش کی تھی۔
پورٹ سعید میں ہنگاموں کے دوران پولیس غائب ہوگئی تھی۔اس کے بعد فوج کو شہر میں تعینات کر دیا گیا تھا اور فوجیوں نے شہر کی تمام اہم تنصیبات کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔
ادھر دارالحکومت قاہرہ کے میدان التحریر میں مسلسل چوتھے روزنوجوان مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں اور سکیورٹی فورسز نے ایک مرتبہ پھر مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے اور ہوائی فائرنگ کی جبکہ نوجوان مظاہرین سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر پتھراؤکررہے تھے۔
قاہرہ اور دوسرے شہروں میں سابق صدر حسنی مبارک کی حکومت کے خلاف برپا شدہ انقلاب کی دوسری سالگرہ کے موقع پر جمعرات کو ہنگامے شروع ہوئے تھے اور بہت سے انقلابیوں نے موجودہ صدر محمد مرسی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔پورٹ سعید اور قاہرہ میں ان پرتشد مظاہروں میں پینتالیس افراد ہلاک اور بیسیوں زخمی ہو چکے ہیں۔