شامی فوج پر مارچ میں خان العسل میں کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا الزام عاید کیا گیا تھا

شامی فوج اور باغی جنگجوؤں کے درمیان خان العسل میں شدید جھڑپیں

دو روز کی لڑائی میں شامی فوج کو بھاری جانی نقصان،150 فوجیوں کی ہلاکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی فوج نے شمالی قصبے خان العسل پر دوبارہ قبضے کے لیے باغیوں کے ٹھکانوں پر نیا حملہ کیا ہے جس کے بعد متحارب فوجوں کے درمیان شدید لڑائی چھڑ گئی ہے۔

لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق لڑائی میں شامی فوج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے اور گذشتہ دوروز کے دوران ڈیڑھ سو فوجی مارے گئے ہیں۔ ان میں سے پچاس کو باغیوں نے پکڑنے کے بعد گولی مار کر ہلاک کردیا ہے۔

باغی فوجیوں اور جنگجوؤں پر مشتمل جیش الحر نے دس روز قبل صوبہ حلب میں واقع خان العسل پر قبضہ کیا تھا اور اب شامی فوج اس کو واگزار کرانے کے لیے حملہ آور ہے۔

اسی قصبے میں 19 مارچ کو شامی حکومت اور حزب اختلاف نے ایک دوسرے کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کے الزامات عاید کیے تھے۔ کیمیائی ہتھیاروں کے اس مبینہ حملے میں تیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ شامی حکومت نے باغیوں پر اس حملے کا الزام عاید کیا تھا اوراس کے اتحادی روس نے کہا تھا کہ اس کے پاس اس کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔

باغیوں نے اس الزام کی تردید کی تھی جبکہ امریکا کا کہنا تھا کہ اس کو باغیوں کی جانب سے کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کے کوئی ثبوت نہیں ملے ہیں۔اب اقوام متحدہ کے تحقیقات کار ان الزامات کی تحقیقات کے لیے شام آرہے ہیں اور وہ ترکی میں بھی عارضی قیام کے دوران ان ہتھیاروں سے متاثرہ افراد سے پوچھ گچھ کررہے ہیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں