جیش الحر کے جنگجو دوسرے باغی گروہوں کے گڑھ پر قبضہ جمانے کے بعد پرچم لہرا رہے ہیں۔ [رائیٹرز]

شام: القاعدہ سے لڑائی میں 85 شہریوں سمیت 500 ہلاک

مرنے والوں میں 240 باغی اور 157 اسلام پسند شامل ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی باغیوں کی اسلام پسند جہادیوں کے خلاف ایک ہفتے سے جاری لڑائی کے دوران 85 عام شہریوں سمیت پانچ سو ہلاک ہو گئے ہیں۔ مانیٹر گروپ کے مطابق شام کی باغی گروپوں یہ لڑائی شام اور عراق کو اسلامی مملکت بنانے کا عزم رکھنے والی آئی ایس آئی ایل کو شام سے نکال باہر کرنے کیلیے بھر پور کارروائی کا آغاز کر رکھا ہے۔

مانیٹرنگ کرنے والی این جی او کا کہنا ہے کہ "ہمارے پاس لڑائی میں مارے جانے والے 482 افراد کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔ ان میں 85 عام شہری ہیں، 240 شامی باغی اور 157 اسلامی عسکریت پسند شامل ہیں۔"

رامی عبدالرحمان کی سربراہی میں کام کرنے والی آبزرویٹری کی طرف سے یہ اطلاعات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب شامی باغیوں نے اسلام پسندوں کو بشار الاسد رجیم کا مددگار قرار دیا ہے۔

شامی باغی حکام کا موقف ہے کہ اسلام پسندوں نے ایک سے زائد بار ان کے لوگوں پر حملے کیے ہیں اور ان علاقوں کو چھننے کی کوشش کی ہے جو باغیوں نے بشارالاسد رجیم سے خالی کروائے ہیں۔

آئی ایس آئی ایل پر زیر قبضہ لیے گئے علاقوں میں لوگوں کو بے دردی سے قتل کرنے کا بھی الزم لگایا جاتا ہے۔ آئی ایس آئی ایل پر یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ برطانوی ڈاکٹر عباس خان جسے آئی ایس آئی ایل نے اغوا کیا تھا بعد ازاں اس کی موت سرکاری جیل میں ہوئی تھی۔

واضح رہے یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ آئی ایس آئی ایل کے بارے میں شامی باغی گروپوں نے ایسا کھل کر موقف اختیار کیا ہے۔ ماہ جنوری کے شروع میں بھی آزاد شامی فوج کے حکام نے ''العربیہ'' سے با ت کرتے ہوئے کہا تھا '' آئی ایس آئی ایل شامی رجیم ہی نہیں عراق اور ایران کا بھی ایک حامی گروہ ہے۔''

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں