meeting

اوباما کی القاعدہ کیخلاف قبائل اور عراقی فورسز کے تعاون کی حمایت

عراقی پارلیمنٹ کے سنی سپیکر اسامہ النجفی کی اوباما سے ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما نے عراقی پارلیمنٹ کے سنی سپیکر اسامہ النجفی سے ملاقات میں عراق کے سنی قبائل اور عراقی فورسز کے درمیان مطابقت اور موثر رابطوں کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ صدر اوباما نے اس موقع پر تمام طبقات کے جائز حقوق کے لیے عراقی قیادت کے درمیان سیاسی عمل کے ذریعے مکالمے کی حوصلہ افزائی کی تاکہ باہمی شکایات کا ازالہ ہو سکے۔

وائٹ ہاوس کی طرف سے اس بارے میں جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ وائٹ ہاوس القاعدہ کیخلاف صوبہ انبار کے شہروں فلوجہ اور رمادی میں عراق کی مدد کرنا چاہتا ہے۔

اس موقع پر دونوں طرف سے اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کیلیے طاقت کے استعمال کے ساتھ ساتھ بات چیت اور سیاسی اقدامات بھی کیے جائیں۔

ملاقات میں صدر اوباما کے علاوہ امریکی نائب صدر جوبائیڈن بھی موجود تھے۔ دونوں امریکی ذمہ داران نے امریکا کی جانب سے القاعدہ کیخلاف قبائل اور فوج کے درمیان تعاون کو بہتر کرنے کیلیے مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے۔

اس سے پہلے پیر کے روز عراقی وزیر اعظم نورالمالکی نے صوبہ انبار کے عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ عسکریت پسندوں کی خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ صوبہ انبار کے اہم شہروں فلوجہ اور رمادی میں تقریبا دو ہفتوں سے القاعدہ نے فورسز کو مشکل میں ڈال رکھا ہے ۔ عملا شیعہ سنی تقسیم کے باعث سنی حکومت کو انتقامی رویہ اختیار کیے ہوئے سمجھتی ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں