اوباما والملك عبدالله بن عبدالعزيز

امریکی صدر جمعرات کو سعودی عرب کا دورہ کریں گے

دورے کا مقصد دوست ممالک کو اعتماد میں لینا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے صدر براک اوباما دورہ یورپ کے اختتام پر آئندہ جمعرات کو سعودی عرب پہنچیں گے، جہاں وہ سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز سے شاہی محل میں مفصل ملاقات بھی کریں گے۔ امریکی صدر جمعہ کے روز سعودی عرب ہی میں قیام کریں گے اور ہفتے کو وطن واپس روانہ ہو جائیں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق براک اوباما کے دورے کا مقصد دوست ممالک کو ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے جاری مذاکرات کے سلسلے میں اعتماد میں لینا ہے۔ سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز سے ملاقات میں صدر اوباما شام کی تازہ صورت حال، باغیوں کی فوجی امداد، ایران کے جوہری پروگرام پر جاری بات چیت، مشرق وسطیٰ کے امن مذاکرات اور مصر کے سیاسی حالات پر تبادلہ خیال کریں گے۔

خیال رہے کہ دو روز قبل امریکی قومی سلامتی کی خاتون مشیر سوزان رائس نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ صدر اوباما جلد سعودی عرب کے دورے پر جائیں گے، جہاں وہ سعودی فرمانروا سے ملاقات میں خلیج کی سلامتی کو یقینی بنانے سے متعلق امریکی موقف کے بارے میں انہیں اعتماد میں لیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر براک اوباما خادم الحرمین الشریفین کے ساتھ باہمی دلچسپی کے کئی دیگر موضوعات پر بھی تبادلہ خیال کریں گے، جن میں دوطرفہ سیکیورٹی واقتصادی تعاون اور انسداد دہشت گردی کے موضوعات خاص طور پر شامل ہیں۔

سوزان رائس کا کہنا تھا کہ امریکا کے نزدیک ایران کے جوہری پروگرام کی نسبت شام کی موجودہ صورت حال زیادہ اہمیت کی حامل ہے اور صدر اوباما، شاہ عبداللہ سے ملاقات میں شام کی صورت حال اور بحران کے خاتمے کے بارے میں تفصیل سے تبادلہ خیال کریں گے۔

یاد رہے کہ چند روز پیشتر خبر آئی تھی کہ صدر براک اوباما خلیجی ممالک کے دورے پر جا رہے ہیں تاہم وائٹ ہاؤس میں صدر کے معاون خصوصی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ تمام خلیجی ملکوں کے دورے کا فیصلہ منسوخ کر دیا گیا ہے۔ اب صدر اوباما صرف سعودی عرب کے دورے پر اکتفا کریں گے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں