شامی صدر بشار الاسد اور ان کی اہلیہ اسماء اسد دمشق کے ایک پولنگ اسٹیشن پر صدارتی انتخاب میں ووٹ ڈال رہے ہیں
شام: صدارتی انتخاب کیلیے ووٹنگ شروع
بشارالاسد کی اگلے سات سال کے لیے صدارت پکی ہو جائے گی
شام میں صدارتی انتخاب کے لیے ووٹنگ کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ سخت سکیورٹی کے ماحول میں ہونے والے اس انتخاب میں موجودہ صدر بشارالاسد کی جیت یقینی ہے۔ متحدہ اپوزیشن اس انتخابی عمل کو ڈھونگ قرار دیتی ہے۔
منگل کی صبح شروع ہونے والی پولنگ سے پہلے سرکاری سکیورٹی فورسز نے اپنے زیر قبضہ علاقوں میں پولنگ کے لیے سکیورٹی مزید سخت کر دی تھی۔ شامی وزارت داخلہ کے مطابق ایک کروڑ پچاس لاکھ سے زائد ووٹر الیکشن میں ووٹ کا حق استعمال کر سکتے ہیں۔
شام کی متحدہ اپوزیشن اور باغیوں نے اس صدارتی انتخاب کو ڈھونگ قرار دے کر اس کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ جبکہ عالمی برادری نے بھی اس انتخابی عمل پر تحفظات ظاہر کر رکھے ہیں۔
اس الیکشن میں عمومی طور پر یہی توقع کی جارہی ہے کہ بشارالاسد ایک مرتبہ پھر خود کو سات سال کے لیے صدر کے عہدے پر اپنا تسلط قائم رکھنے میں کامیاب رہیں گے۔
ان کے مقابل دو غیر معروف قسم کے دو قانون دان صدارتی امیدوار کے طور پر موجود ہیں۔ جن کے نام بالترتیب ماہر عبدالحافظ حجار اور حسن بن عبداللہ النوری ہیں۔
واضح رہے الیکٹورل کمیشن ہفتے کے دن ہی اعلان کر چکا ہے کہ ملک سے باہر موجود تارکین وطن میں سے 95 فیصد نے ووٹ ڈالے ہیں۔ ان تارکین وطن نے 39 مختلف سفارتخانوں میں قائم پولنگ سٹیشنز پر ووٹ ڈالے تھے۔
شامی رجیم نے بشار الاسد کی زیر قیادت اس کے باوجود نئے صدارتی انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا کہ تین سال سے زائد عرصے کے دوران ایک لاکھ باسٹھ ہزار شہری ہلاک ہو چکے ہیں اور ملک سخت افرتفری کا شکار ہے۔