زیر حراست اسرائیلی

فلسطینیوں پر تشدد کے الزام میں تین اسرائیلی گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی پولیس کے مطابق مشرقی بیت المقدس کی نفیہ یعقوب یہودی کالونی میں یہودی جھتے کے ہاتھوں دو فلسطینی نوجوانوں پر وحشیانہ تشدد کے الزام تین اسرائیلی نوجوانوں کو حراست میں لے لیا گیا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یروشلم کی عدالت کو اب 25 جولائی کو مشرقی بیت المقدس میں دو عرب شہریوں پر حملہ کرنے والے زیر حراست تین مشتبہ یہودیوں کی قید میں توسیع یا رہائی کا فیصلہ کرنا ہے۔

حملے میں زخمی ہونے والے ایک عرب نوجوان نے کثیر الاشاعت عبرانی اخبار 'ہارٹز' کو بتایا کہ امیر شویکی اور سامر محفوظ گذشتہ جمعہ کی شام پیدل جا رہے تھے کہ انہیں یہودیوں کے ایک جھتے نے روک سگریٹ مانگا، پھر اچانک لوہے کی سلاخوں سے امیر اور سامر کو مارنا شروع کر دیا۔

دونوں نوجوان حملے کے بعد ھداسہ عین کرم ہسپتال لیجائے گئے جہاں پر امیر شویکی انتہائی نگہداشت کے شعبے میں داخل کر لئے گئے۔ ہارٹز نے نے سامر محفوظ کے حوالے سے بتایا کہ انہیں اور عامر کو تقریبا 12 لوگوں نے تشدد کا نشانہ بنایا۔

ان کا کہنا تھا" ہجوم کے پاس لاٹھیاں اور لوہے کی سلاخیں تھیں اور وہ ہمارے سروں پر وار کر رہے تھے۔" اخبار ہارٹز نے ان دونوں نوجوانوں کے بری طرح زخمی چہروں کی تصویریں اخبار میں شائع کیں اور دعویٰ کیا کہ موقع پر آنے والی پولیس نے زخمیوں کے لئے ایمبولینس تک نہ بلائی مگر پولیس نے اس الزام کی صحت سے انکار کرتے ہوئے بتایا مضروبین نے پولیس کی مدد لینے سے انکار کر دیا تھا۔

مشرقی بیت المقدس میں موجود عربوں اور اسرائیلیوں کے درمیان کشیدگی اس وقت شدت اختیار کر گئی تھی جب 2 جولائی کو ایک 16 سالہ فلسطینی لڑکے محمد ابو خضیر کو اغوا کے بعد زندہ جلا دیا گیا۔

پولیس نے ابو خضیر کو زندہ جلانے کی پاداش میں چھ مشتبہ یہودی انتہا پسندوں کو گرفتار کیا، مگر 17 جولائی کو ان میں تین افراد کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے باقی تین کو رہا کر دیا گیا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں