yazidi families

داعش: سنجار پہاڑ پر 700 یزیدی خاندانوں کا محاصرہ

یزیدیوں کے مذہبی پیشوا کا عالمی برادری سے امداد مہیا کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دولتِ اسلامیہ عراق وشام (داعش) کے جنگجوؤں نے عراق کے شمالی صوبے نینویٰ کے مغرب میں واقع سنجار پہاڑ پر قریباً سات سو یزیدی خاندانوں کا محاصرہ کر لیا ہے۔

العربیہ کے نمائندے کی اطلاع کے مطابق سنجار کے تحفظ کے لیے مقامی جنگجوؤں پر مشتمل ملیشیا داعش کے جنگجوؤں کی مزاحمت کررہی ہے لیکن اس کے پاس اسلحہ اور گولہ وبارود ختم ہورہا ہے اور اس نے امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک سے ہنگامی طور پر کمک مہیا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

داعش اپنے مزید جنگجوؤں کو علاقے کی جانب بھیج رہی ہے اور وہ سنجار سے صرف ایک کلومیٹر دور رہ گئے ہیں۔یزیدیوں کے روحانی پیشوا تحسین علی سعید نے عالمی برادری سے اپنے لوگوں کے تحفظ کے لیے امداد کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ ان کی داعش کے ہاتھوں نسل کشی کو روکا جائے۔

ان کا کہنا ہے کہ داعش کی شورش کے بعد سے قریباً پانچ ہزار یزیدی مارے جاچکے ہیں،خواتین اور بچوں سمیت سات ہزار کو اغوا کر لیا گیا ہے اور ساڑھے تین لاکھ کے لگ بھگ کردستان ،شام اور ترکی میں دربدر ہیں۔

داعش کے جنگجوؤں نے اگست کے اوائل میں شمالی عراق میں یزیدی آبادی کے دوقصبوں زمار اور سنجار سے کرد سکیورٹی فورسز البیش المرکہ کو لڑائی کے بعد مار بھگایا تھا اور ان پر قبضہ کر لیا تھا۔یہ دونوں قصبے شمالی شہر موصل اور خودمختارشمالی علاقے کردستان کے نزدیک واقع ہیں۔

داعش کے حملے کے بعد ہزاروں یزیدی دربدر ہوکر سنجار کے پہاڑ پر چلے گئے تھے اور وہاں دس روز تک بے یارومددگاری کے عالم میں رہے تھے۔اس دوران امریکا کے جنگی طیاروں نے داعش کے جنگجوؤں پر فضائی حملے شروع کردیے تھے۔

واضح رہے کہ داعش کے جنگجوؤں نے زمار اور سنجار پر قبضے کے بعد وہاں کے مکین کرد نسلی اقلیت سے تعلق رکھنے والے یزیدیوں کے سامنے تین شرائط پیش کی تھیں کہ وہ اسلام قبول کرلیں،جزیہ دیں ،علاقہ چھوڑ کر چلے جائیں یا پھر مرنے کے لیے تیار ہوجائیں۔

داعش نے مقامی مسلح قبائل اور دوسرے گروپوں کی مدد سے 10 جون کو عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل پر قبضہ کر لیا تھا۔اس کے بعد سے انھوں نے پورے صوبہ نینویٰ سمیت عراق کے پانچ شمالی اور شمال مغربی صوبوں کے بیشتر علاقوں پر قبضہ کر کے اپنی حکومت قائم کررکھی ہے لیکن اگست کے آخر سے اب انھیں امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک کی تباہ کن فضائی بمباری کا سامنا ہے جس کی وجہ سے میدان جنگ میں ان کی پیش قدمی رُک چکی ہے اور انھیں پسپائی کا سامنا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں