شامی صدر بشارالاسد سے دمشق میں روس کے نائب وزیرخارجہ میخائل بوگدانوف ملاقات کررہے ہیں۔
روس کا ''شام امن مذاکرات'' پر امریکا سے رابطہ
روسی نائب وزیرخارجہ کی بشارالاسد سے امن مذاکرات کی بحالی پر بات چیت
روس شام میں گذشتہ قریباً چار سال سے جاری بحران کے حل کے لیے امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی غرض سے امریکا کے ساتھ رابطے میں ہے۔
یہ بات روس کے نائب وزیرخارجہ میخائل بوگدانوف نے دمشق میں صدر بشارالاسد کے ساتھ ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔شامی صدر نے امن بات چیت دوبارہ شروع کرنے کے لیے روس کی کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔
بوگدانوف نے بتایا ہے کہ روس شامی اور امریکی حکام کے درمیان ملاقات کی میزبانی کے لیے پُرامید ہے اور وہ خود اس سلسلے میں اپنے امریکی شراکت داروں سے بھی رابطے میں ہیں۔
روسی خبررساں ایجنسی ریا نووستی نے نائب وزیرخارجہ کا یہ بیان نقل کیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ اگر شامی فریق ماسکو میں ملاقات کرنا چاہتے ہیں تو پھر ہم اس ایشو سے متعلق امریکا اور دوسروں سے تبادلہ خیال کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ''ہم نے شامیوں کو ماسکو میں آنے کی تجویز پیش کی ہے تاکہ بحران کے حل کے لیے سیاسی امکانات پر تبادلہ خیال کیا جاسکے''۔
روس شامی حکومت کے عہدے داروں اور حزب اختلاف کے نمائندوں کے درمیان براہ راست ملاقات کے لیے کوشاں ہے تاکہ شام میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے امن عمل کا دوبارہ آغاز کیا جاسکے۔شامی صدر بشارالاسد نے روس کی ان کاوشوں کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔
شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا کے مطابق صدر اسد نے کہا کہ ''روس ہمیشہ سے شامی عوام کے ساتھ رہا ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ لوگوں کے اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کے حق کی حمایت کرتا ہے''۔انھوں نے مزید کہا کہ ''روس ریاستوں کی خود مختاری اور بین الاقوامی قانون کی حمایت کرتا ہے''۔
روسی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ''صدر بشارالاسد اور بوگدانوف نے دولت اسلامی (داعش) اور دوسری دہشت گرد تنظیموں کے خلاف جنگ میں کوششوں کے مربوط بنانے پر بھی تبادلہ خیال کیا ہے''۔
روسی نائب وزیرخارجہ نے لبنان اور ترکی میں شامی حزب اختلاف کے گروپوں کے ساتھ ملاقاتوں کے بعد دمشق کا دورہ کیا ہے۔قبل ازیں انھوں نے استنبول میں شامی حزب اختلاف کے ارکان سے ملاقات کی تھی۔انھوں نے صدر بشارالاسد کو حزب اختلاف کے ارکان سے ہونے والی بات چیت سے آگاہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ''ہم دمشق حکام کے ساتھ بہت سے ایشوز پر سمجھوتے تک پہنچنا چاہتے ہیں''۔
واضح رہے کہ نومبر میں روسی حکام نے ماسکو میں شامی حزب اختلاف کے رہ نما احمد معاذ الخطیب اور شامی وزیرخارجہ ولید المعلم کی سربراہی میں وفد سے الگ الگ ملاقات کی تھی اور ان سے بحران کے حل کے لیے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا تھا۔گذشتہ ہفتے شامی قومی کونسل کے سابق سربراہ معاذالخطیب نے شام میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے اسد حکومت کے ساتھ براہ راست بات چیت کی ضرورت پر زور دیا تھا۔