An Israeli police vehicle sprays water during clashes with Palestinians in Beit Omar village near the West Bank city of Hebron April 10, 2015. (Reuters)

اسرائیلی فوج کی جنازے پر فائرنگ، فلسطینی جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوجیوں نے مقبوضہ غرب اردن میں اسرائیلی جیل سے حال ہی میں رہا ہونے والے فلسطینی شہری کے جنازے پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ایک فلسطینی جاں بحق ہوگیا۔

فلسطینی طبی ذرائع کے مطابق الخلیل میں اسرائیلی جیل سے رہا ہونے کے کچھ ہی دیر بعد ہلاک ہونے والے فلسطینی شخص کے جنازے کے بعد ہونے والے مظاہروں کو ختم کرنے کے لئے اسرائیلی فوجیوں نے فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجے میں دو فلسطینی زخمی ہوگئے تھے۔

ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے 30 سالہ زیاد عواد کو کمر میں گولی لگی اور وہ بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئے۔ زیاد عواد اسرائیلی جیل سے رہا ہو کر وفات پانے والے فلسطینی جعفر عواد کے رشتہ دار ہیں۔

جعفر عواد کے جنازے کے دوران مظاہرے شروع ہوگئے اور ان کے عزیز واقارب کا کہنا تھا کہ ان کی موت کا ذمہ دار اسرائیل ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق ہزاروں افراد نے بیت عمار گائوں سے جنازے کے ساتھ مارچ کرنا شروع کیا اور ان میں سے کچھ افراد نے قریب ہی تعینات اسرائیلی فوجیوں پر پتھرائو کیا۔

اس کے بعد اسرائیلی فوجیوں نے جنازے کے شرکاء پر آنسو گیس اور ربڑ کی گولیوں چلا دیں اور کچھ دیر بعد دھاتی گولیوں کا استعمال شروع کردیا۔

فلسطینی اتھارٹی کی اسیران کے جملہ امور کی ذمہ دار باڈی کے سربراہ عیسیٰ قراقہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ جعفر عواد کی ہلاکت اسرائیلی جیل حکام کی غفلت کے سبب ہوئی ہے۔

اسرائیلی حکام نے جعفر کو دہشت گردانہ کارروائیوں اور فلسطینی مسلح گروپ اسلامی جہاد سے تعلق کے شبہ میں جیل میں ڈالا تھا اور ان کا خاندان ان الزامات کو رد کرتا آیا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں