النصب المثير للجدل
اسرائیل: متنازعہ یادگار سے شہید ابوخضیر کا نام ہٹا دیا گیا
اسرائیلی حکومت کی جانب سے حال ہی میں مقبوضہ بیت المقدس میں ’’دہشت گردی‘‘ کا نشانہ بننے والوں کی ایک یادگاری تختی نصب کی گئی جس میں پچھلے سال یہودی دہشت گردوں کے ہاتھوں زندہ جلا کرشہید کیے گئے 16 سالہ فلسطینی بچے محمد ابو خضیر کا نام بھی شامل کیا گیا تھا، تاہم شہید کے اہل خانہ کے مطالبے پر اس کا نام اس فہرست سے نکلوا دیا گیا ہے۔
ابو خضیرکو پچھلے سال ماہ رمضان میں یہودی دہشت گردوں نے نماز فجر کے وقت اغواء کیا اورایک ویران مقام پر لے جا کر نہایت بے رحمی سے اسے آگ لگا کرزندہ جلا ڈالا تھا۔ بدترین دہشت گردی کے اس واقعے کو اسرائیلی تحسین کی نگاہ سے دیکھتے تھے کیونکہ اس میں نشانہ بننے والا کوئی یہودی آباد کار نہیں بلکہ ایک غریب فلسطینی خاندان کا نوعمر لڑکا تھا۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے شہید ابو خضیر کے اہل خانہ کے مطالبے پر بیت المقدس میں نصب یاد گاری تختی سے اس کا نام ہٹا دیا ہے۔
یادگارکا اہتمام کرنے والی ایک یہودی تنظیم کے ترجمان حاییم بتوسی نے "اے ایف پی" کو بتایا کہ بدھ کے روز ابو خضیر کا نام یادگار سے مٹا دیا گیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق یادگار سے ابو خضیر کا نام اس کے خاندان کے مطالبے پر ہٹایا گیا ہے۔
خیال رہے کہ منگل کے روز ابو خضیر شہید کے خاندان کی جانب سے یہ موقف سامنے آیا تھا کہ وہ اپنے بیٹے کا نام یہودیوں کی فہرست میں نہیں دیکھنا چاہتے ہیں۔ شہید ابو خضیر کے والد حسین ابوخضیر کا کہنا تھا کہ "میں فلسطینی ہوں اور میرا شہید بیٹا بھی فلسطینی ہے۔ میں اپنے بیٹے کا نام جہنم واصل صہیونی فوجیوں کی فہرست میں نہیں دیکھنا چاہتا۔"
اسی بارے میں
-
حماس سے اختلاف، فلسطینی وزراء کا دورہ غزہ مختصر -
غربِ اردن:اسرائیلی فوج کی کارروائی،29 فلسطینی گرفتار -
اسرائیلی فوج کی جنازے پر فائرنگ، فلسطینی جاں بحق -
ایران کو میزائلوں کی فروخت اسرائیل کے لیے خطرہ نہیں: پوتن -
'دی ٹن ڈرم' کے خالق گُنٹر گرَاس آنجہانی ہو گئے -
"اسرائیل فنڈز جاری کرے ورنہ عالمی عدالت جائیں گے"