Your browser doesn’t support HTML5 video

یمن : فوج اور عوامی مزاحمت کاروں کی الحدیدہ کی سمت پیش قدمی

اتحادی طیاروں کی باغیوں کے ٹھکانوں پر بمباری جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے صوبے حجہ میں گھمسان کی لڑائی میں شان دار پیش قدمی کو یقینی بنانے کے بعد سرکاری فوج اور عوامی مزاحمت کار اب ملک کے جنوبی صوبے الحدیدہ کی سمت بڑھ رہے ہیں۔ اس دوران ففتھ ملٹری زون میں جنرل اسٹاف کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل عمر سجاف کے مطابق اتحادی افواج کی جانب سے کمک بھیجے جانے کے بعد سرکاری فوج نئے علاقوں کی جانب پیش قدمی کے لیے لڑائی کے مقامات کو تبدیل کرنے کی تیاریاں کررہی ہے۔ حجہ صوبے میں حرض و میدی کے محاذ پر سرکاری فوج کے لیے بڑی عسکری کمک پہنچ گئی.. اس کا مقصد صوبے میں حوثی اور صالح ملیشیاؤں کے زیرکنٹرول بقیہ ماندہ علاقوں کو واپس لیے جانے کے معرکوں میں سپورٹ کرنا ہے۔ عمر سجاف نے بتایا کہ لڑائی کے اکثر محاذوں پر حوثی اور معزول صدر صالح کی ملیشیاؤں کو منہ کی کھانی پڑی ہے۔ سرکاری فوج عرب اتحادی افواج کی سپورٹ کے ساتھ اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملیشیاؤں کے زیرقبضہ نئے ٹھکانوں کو کلیئر کرانے کی کوشش کررہی ہے۔

ادھر اتحادی جنگی طیاروں نے صنعاء اور دیگر یمنی صوبوں میں ملیشیاؤں کے ٹھکانوں پر شدید حملے کیے۔ اس دوران دارالحکومت صنعاء کے جنوب میں النہدین کیمپ کے علاوہ نہم کے علاقے میں بھی ملیشیاؤں کے جنجگوؤں اور گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے نتیجے میں درجنوں باغی ہلاک و زخمی ہوگئے۔ اتحادی افواج کے حملوں عمران صوبے کے علاقے عیال صریح میں سرکاری عمارتوں تک پھیل گئے.. باغیوں کی جانب سے ان مقامات کو اسلحہ اور عسکری گاڑیوں کو چھپانے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

اتحادی طیاروں نے مارب صوبے کے مغرب میں واقع گورنری صراوح اور تعز صوبے میں دیگر مقامات پر بھی بمباری کی۔ اس دوران خصوصی طور پر دمنہ خدیر اور جبل حبشی کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا جہاں شدید جھڑپیں دیکھنے میں آرہی ہیں۔

عوامی مزاحمت کاروں کے ذرائع نے بتایا ہے کہ تعز کے محاذوں پر اتحادی افواج کی بمباری اور وہاں جاری جھڑپوں میں ملیشیاؤں کے درجنوں مسلح ارکان ہلاک اور زخمی ہوگئے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں