روحانی،خامنہ ای
ایران : صدر اور مرشد اعلی کے درمیان اختلافات میں شدّت
ایران میں باخبر ذرائع نے مرشد اعلی علی خامنہ ای اور صدر حسن روحانی کے درمیان اختلافات میں اضافے کا انکشاف کیا ہے۔ لندن سے شائع ہونے والے عربی روزنامے الشرق الاوسط کے مطابق اختلافات میں شدت صدارتی دفتر کے ذمہ داران کو حکومت کے اجلاسوں میں آنے سے روک دینے کے بعد آئی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ خامنہ ای اور روحانی کے درمیان اختلاف میں بڑھوتی اور بالواسطہ سرزنش، خامنہ ای کی جانب سے صدارتی امور میں براہ راست مداخلت پر اصرار کا نتیجہ ہے۔
دوسری جانب اصلاح پسندوں کے نزدیک سمجھی جانے والی ویب سائٹوں کے مطابق خامنہ ای نے روحانی کے دفتر کے ڈائریکٹر محمد نہاونديان اور حکومت میں تعلقات عامہ کے دفتر کے سربراہ حسين فريدون کو حکومت کے اجلاسوں میں آنے سے روک دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق خامنہ ای نے حکومت کے امور میں براہ راست مداخلت کے موقف پر ڈٹے رہ کر روحانی کی جانب سے ماحول کی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو بھی مسترد کر دیا ہے۔
الشرق الاوسط اخبار نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ خامنہ ای نے روحانی کے سامنے دو اختیارات رکھے ہیں کہ یا تو نہاوندیان اور فریدون حکومت کے اجلاسوں میں شرکت کریں اور یا پھر روحانی دونوں شخصیات (اپنے اور خانہ ای) کے درمیان اچھے تعلقات کا آپشن قبول کریں۔
اسی بارے میں
-
خامنہ ای کا مشیر دمشق میں.. حلب میں ایرانی افسران ہلاک -
امریکی خلیج خنزیر دفع ہوجائیں: خامنہ ای -
ٹریننگ کے دوران خامنہ ای کا محافظ کرنل ہلاک -
ایران سے پابندیاں اٹھانے کا امریکی اعلان کاغذی ہے: خامنہ ای -
اوباما کی خفیہ خطوط میں خامنہ ای سے ملاقات کی درخواست! -
حزب اللہ کو دہشت گرد قرار دینے پر خامنہ ای سعودی عرب پر برہم