rusia
48 گھنٹوں کے بعد روس حلب میں طویل المیعاد جنگ بندی کا خواہاں
سینٹ پیٹرزبرگ میں روسی صدر کی اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون اور شام کے لیے خصوصی ایلچی اسٹیفن ڈی میستورا کے ساتھ ملاقات سے ایک روز قبل، روسی وزارت دفاع نے شام کے شہر حلب میں حیران کن طور پر 48 گھنٹوں کے لیے جنگ بندی کا اعلان کردیا۔
ادھر روسی نیوز ایجنسی انٹرفیکس کے مطابق روس کے نائب وزیر خارجہ میخائیل بوجدانوف نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ ان کا ملک شام کے شہر حلب میں "طویل المیعاد فائربندی" چاہتا ہے۔
روسی وزارت دفاع نے بدھ کی شب شام کے شہر حلب میں جمعرات کے روز سے نافذ العمل 48 گھنٹوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا۔ بیان کے مطابق مذکورہ جنگ بندی کا آغاز 15 اور 16 جون کی درمیانی شب مقامی وقت کے مطابق 12:01 پر ہوگا اور اس کا مقصد مسلح تشدد کی سطح کو کم کرنا اور صورت حال کو پرسکون بنانا ہے۔
تاہم بیان میں اس فریق کا نام نہیں بتایا گیا جس کے ساتھ روس اس دو روزہ جنگ بندی کو زیر بحث لایا ہے۔
وزارت دفاع کے بیان میں "النصرہ محاذ" اور شام میں "القاعدہ" تنظیم پر الزام لگایا گیا ہے کہ ان جماعتوں نے حلب میں متعدد علاقوں کو راکٹ لانچروں سے بمباری کا نشانہ بنایا ہے اور شہر کے مغربی حصے میں ٹینکوں سے گولہ باری بھی کی ہے۔
بشار الاسد پر جنگ بندی کے نفاذ میں چُناؤ پن کا الزام
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے بدھ کے روز شامی صدر بشار الاسد اور روس پر الزام عائد کیا کہ وہ شام میں لڑائی روکے جانے کے معاہدے کو مخصوص اور چُنے گئے علاقوں میں نافذ کررہے ہیں۔ کیری نے باور کرایا کہ امریکا اس رویے پر بغیر حرکت کے بیٹھا نہیں رہے گا۔