Tupolev Tu-22M3 Backfire strategic bombers fly in formation over the Red Square during the Victory Day parade in Moscow, Russia, May 9, 2015. Russia marks the 70th anniversary of the end of World War Two in Europe on Saturday with a military parade, showcasing new military hardware at a time when relations with the West have hit lows not seen since the Cold War. REUTERS
روسی طیاروں کی بمباری سے الرقہ میں داعش کے اسلحہ ڈپو اور ٹھکانے تباہ
روس کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے چھے بمبار طیاروں نے شام کے مشرقی صوبے دیرالزور میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے اسلحہ ڈپوؤں اور متعدد ٹھکانوں کو تباہ کردیا ہے۔
ماسکو میں روسی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ٹوپو لیف بمبار طیاروں نے اتوار کے روز داعش کے مضبوط گڑھ دیرالزور شہر کے جنوب مغرب ،مشرق اور شمال مشرق میں بمباری کی ہے اور دو کمانڈ پوسٹوں ،چھے اسلحہ ڈپوؤں ، گاڑیوں کو تباہ کردیا ہے اور بمباری میں داعش کے بڑی تعداد میں جنگجو مارے گئے ہیں۔
داعش کا دیر الزور شہر کے ایک بڑے حصے پر قبضہ ہے،اسی نام سے تیل کی دولت سے مالا مال اس صوبے کے بیشتر علاقوں پر بھی ان کا کنٹرول ہے۔داعش کے جنگجوؤں کی گذشتہ مہینوں کے دوران شامی فوج کے ساتھ اہم فوجی اڈوں پر قبضے کے لیے لڑائی ہوتی رہی ہے۔
روس اپنے اتحادی صدر بشارالاسد کی حمایت میں گذشتہ سال ستمبر سے شام میں داعش اور دوسرے باغی گروپوں کے خلاف فضائی حملے کررہا ہے اور ان حملوں ہی کی بدولت شامی فوج کو بھی کچھ سنبھالا ملا ہے۔روس کی حمایت سے شامی فورسز ملک کے دوسرے بڑے شہر حلب میں دوسرے باغی گروپوں کے خلاف لڑرہی ہیں۔
امریکا کے حمایت یافتہ عرب کرد اتحاد نے جمعے کے روز ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع شہر منبج سے داعش کے جنگجوؤں کو گذشتہ کئی ہفتوں سے جاری شدید لڑائی کے بعد نکال باہر کیا تھا۔یہ اس جنگجو گروپ کے لیے ایک بڑا دھچکا تھا اور پینٹاگان نے ان کی شکست پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس وقت رسیوں پر چل رہے ہیں۔بہ الفاظ دیگر شام میں ان کے قدم اب اکھڑ چکے ہیں۔