Your browser doesn’t support HTML5 video

جنگ سے چُور شامی بچے اب بھی اُمید سے پیوستہ..

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنگوں میں انسان محض اعداد و شمار میں تبدیل ہو جاتا ہے جب کہ میزائل ، خون ریزی اور تباہی "انسانی شناخت" کو ضایع کر ڈالتی ہے اور تنازعات "چہروں" کو بالکل اسی طرح مسخ کر دیتے ہیں جس طرح امیدوں کو مٹاتے ہیں۔

شام میں 6 برس کی خون ریز جنگ کا نتیجہ 1.1 کروڑ پناہ گزینوں اور بڑی تعداد میں ہلاکتوں کی صورت میں سامنے آیا۔ اس ساری صورت حال کے بعد بھی اگر کہیں امید کی کرنیں روشن ہیں تو وہ شامی بچوں کی آنکھوں میں ہیں۔

آٹھ سالہ بچی وفاء کی کہانی بھی اُن ہزاروں شامی بچوں کی کہانیوں میں سے ایک ہے جن پر جنگ کے داغ ثبت ہو گئے مگر انہوں نے ہار نہیں مانی۔

وفاء حلب سے فرار ہونے کے بعد اب پناہ گزینوں کے ایک کیمپ میں اپنے خاندان کے ساتھ رہ رہی ہے۔ جنگ نے وفاء کے چہرے کو جھلسا کر مسخ کر دیا اور اس کی ننھے تصورات کو جلا ڈالا تاہم وہ اب بھی "جینے کی طاقت" ، امید کی وسعت اور ٹھوس عزم رکھتی ہے۔

پناہ گزینوں کے امور کی بین الاقوامی تنظیم کی جانب سے جاری ایک مختصر وڈیو میں وفاء نے بتایا کہ اس کے گھر پر میزائل گرنے کے بعد "گیس کا دھماکا" ہوا اور آگ نے اس کو لپیٹ میں لے لیا۔ وفاء نے باور کرایا کہ وہ اب بھی اپنی تعلیم مکمل کرنے اور زندگی کو پورا کرنے کا خواب ذہن میں رکھتی ہے۔

وفاء کا کہنا ہے کہ چہرے پر جنگ کے داغ کی چھاپ لگ جانے کے باوجود وہ تبدیل نہیں ہوئی ہے اور وہ ابھی تک پہلے کی طرح ایک پیار کرنے والی بچی ہے۔

کاش کہ یہ پیغام "بڑوں" کے کانوں اور دنیا کے ضمیر تک پہنچ کر اُن کو ہِلا دے اور شاید وہ اس " المیے" کو روکنے کے واسطے حرکت میں آ جائیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں