Your browser doesn’t support HTML5 video

خطّے میں مداخلت، قطر بھی ایران کے نقشِ قدم پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر کے مواقف نے خطے کے بحرانوں میں کئی گُنا اضافہ کر دیا.. خواہ اس کا سبب خطے کے ممالک کا امن غیر مستحکم کرنے والے ممالک کے ساتھ اُس کے تعلقات ہوں یا پھر حزب اللہ جیسی تنظیموں کے ساتھ قطر کے تعلقات ہوں جن کو خلیجی ممالک اجتماعی طور پر دہشت گرد تنظیمیں گردان چکے ہیں۔

متعدد ممالک کے اندرونی معاملات میں ایرانی مداخلتوں کی طرز پر دوحہ بھی تہران کے مشابہہ کردار ادا کر رہا ہے جس کے دوران ایسے بہت سے مواقف ریکارڈ کیے گئے جنہوں نے خطے کے بحرانوں کو کئی گُنا بڑھا دینے میں حصہ لیا۔

فلسطین کے معاملے میں دوحہ نے فلسطینی اتھارٹی کے خلاف حماس کے انقلاب کو سپورٹ کیا جس نے فلسطینی انقسام کو گہرا کر دیا۔ علاوہ ازیں قطر نے اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کی تصدیق بھی کی جب کہ تل ابیب حماس کو ایک دہشت گرد تنظیم شمار کرتا ہے۔

شامی بحران کے حوالے سے بات کی جائے تو قطر نے جبہۃ النصرہ جو اب جیش فتح الشام (جفش) ہو چکی ہے ان جیسی شدت پسند تنظیموں کو مال ، ہتھیار اور میڈیا سپورٹ فراہم کی۔ اس طرح معتدل مزاج شامی اپوزیشن کے کردار کو سخت ضرر پہنچایا۔

اس سے قبل امیرِ قطر لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے بارے میں کہہ چکے ہیں کہ یہ ایک "مزاحمتی تحریک" ہے۔ یقینا یہ بیان خلیجی اجتماعی موقف سے واضح طور پر نکل جانا ہے جو حزب اللہ کو ایک دہشت گرد تنظیم شمار کرتا ہے۔

اس کے علاوہ کالعدم تنظیم الاخوان المسلمین کے لیے قطر کی سپورٹ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ اس سپورٹ میں تنظیم کے مفرور ارکان کو پناہ دینے سے لے کر الاخوان کے اقتدار کے سقوط کے بعد مصری حکومت کی مخالفت تک شامل ہے۔

یمن میں بھی قطر دُہرا کردار ادا کر رہا ہے۔ ایک طرف وہ عزم کی آندھی آپریشن میں شریک ہو کر اعلانیہ طور پر وہاں کی آئینی حکومت کی حمایت کر رہا ہے۔ دوسری جانب وہ حوثی ملیشیاؤں اور ان کے حلیفوں کو خفیہ طور پر سپورٹ بھی کر رہا ہے۔ یہ ایران کے ساتھ تعاون کے سلسلے میں آتا ہے جس نے حوثیوں کو ابھی تک مکمل سقوط سے بچایا ہوا ہے۔

اسی سے متصل سیاق میں قطر نے حال ہی میں ایران کے ساتھ تعلقات پر نظرِ ثانی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس موقف سے قبل بعض اقدامات بھی سامنے آئے تھے۔ ان میں نمایاں ترین 2010 میں دوحہ کا ایران کے خلاف امریکی اڈے کے استعمال کو مسترد کرنا تھا۔ دو برس قبل یعنی 2015 میں قطر نے اقوام متحدہ کے سامنے ایران کے ساتھ نیوکلیئر معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ وہ پہلا فریق ہے جس نے معاملے کے تصفیے کی حمایت کی اور اس کو سراہا۔

*سوشل میڈیا سرخی

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں