ملیشیات

یمن : ملیشیاؤں کے ہاتھوں خواتین اور بچوں سمیت 1500 افراد اغوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں انسانی حقوق کی صورت حال سے متعلق ایک نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ رواں سال جنوری سے مئی تک حوثی اور معزول صالح کی ملیشیاؤں کے ہاتھوں یمن کے کئی صوبوں میں 1500 افراد اغوا ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق اغوا ہونے والوں میں انسانی حقوق کے کارکنان ، سیاسی کارکنان ، بچے ، خواتین اور مزدور شامل ہیں۔ ان میں متعدد افراد کو قید خانوں میں ملیشیاؤں کی جانب سے مختلف نوعیت کے تشدد کا بھی نشانہ بنایا گیا۔

تفصیلات کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملیشیاؤں نے 5 ماہ کے دوران تقریبا 1500 افراد کو اغوا کیا۔ ان میں 318 کارکنان ، 170 سیاسی شخصیات ، 698 مزدور ، 42 بچے اور 33 خواتین بھی شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ملیشیاؤں کی جیلوں میں 28 شہریوں اور کارکنان کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

تشدد کے طریقوں میں کرنٹ کے جھٹکے دینا ، لوہے کی تاروں اور ڈنڈوں سے مارنا اور دیگر وحشیانہ اسلوب شامل ہیں۔

بعض دیگر رپورٹوں کے مطابق 2017 کے پہلے چھ ماہ کے دوران مسلح ملیشیاؤں کے ہاتھوں 440 شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں