لیبیا
لیبیا میں انسانی اسمگلنگ ، سلامتی کونسل کا انفرادی پابندیاں لگانے پر غور
فرانس نے پیر کے روز ایک اعلان میں کہا ہے کہ اقوام متحدہ پر لازم ہے کہ وہ لیبیا میں انسانی اسمگلنگ کے انسداد کے لیے اضافی اقدامات کرے۔
عالمی سلامتی کونسل اس سلسلے میں انفرادی پابندیاں عائد کرنے کے امکان پر منگل کے روز غور کرے گی۔ پیرس میں ایک فرانسیسی سفارت کار کے مطابق سلامتی کونسل کے اجلاس میں پابندیوں کے معاملے پر روشنی ڈالی جائے گی اور یہ امر انسانوں کی اسمگلنگ کرنے والوں کے خلاف انفرادی پابندیوں سے متعلق ہے۔
ادھر اقوام متحدہ میں فرانسیسی سفیر فرنسوا دولاتر نے نیویارک میں پیر کے روز میڈیا کو بتایا کہ ہمیں کافی دُور جانا ہوگا تا کہ ایک ناقابل قبول صورت حال کے لیے "نہ" بول سکیں۔
فرانسیسی سفارتی ذریعے کے مطابق سلامتی کونسل کے اجلاس میں بین الاقوامی فوجداری عدالت سے رجوع کرنے کا معاملہ بھی زیر بحث آئے گا۔
براعظم افریقہ کے کئی ممالک مثلا سینیگال ، مالی ، نائیجر ، نائیجیریا ، گیمبیا اور گِنی سے تعلق رکھنے والے مہاجرین اس امید پر صحراء عبور کر کے لیبیا پہنچتے ہیں کہ وہاں سے بحیرہ روم کو پار کر کے اطالیہ پہنچنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
امریکی ٹی وی "سی این این" کی ایک رپورٹ میں لیبیا میں ایک نیلام میں مہاجرین کی فروخت کا عمل دکھایا گیا۔ یہ رپورٹ سوشل میڈیا پر پھیل گئی جس کے بعد عوامی حلقوں کی جانب سے وسیع پیمانے پر ہمدردی کے جذبات اور افریقہ اور اقوام متحدہ کی جانب سے مذمتی ردود فعل سامنے آئے۔
مذکورہ رپورٹ میں موبائل فون سے بنائے گئے ایک وڈیو کلپ میں دو نوجوانوں کو دکھایا گیا ہے جن کو فارم میں کام کرنے کے لیے ایک نیلام میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ تیار کرنے والے صحافی کے مطابق ان میں سے ہر ایک نوجوان کو 1200 لیبیائی دینار یعنی 400 امریکی ڈالر میں فروخت کیا گیا۔