شامی اپوزیشن کے مذاکراتی وفد کے ترجمان یحییٰ الریضی

شامی اپوزیشن سُوچی کانفرنس میں شرکت کے حوالے سے تذبذب کا شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی اپوزیشن کے مذاکراتی وفد کے ترجمان یحییٰ العریضی کا کہنا ہے کہ حزب اختلاف سوچی کانفرنس میں شرکت کے حوالے سے ابھی تک اپنے موقف پر غور کر رہی ہے۔

العریضی کے مطابق سُوچی کانفرنس میں شرکت کو مسترد کر دینا آسان امر ہے مگر بعض سیاسی ذمّے داریاں ہیں جن کی روشنی میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

اس سے قبل شامی اپوزیشن نے روس کی جانب سے اعلان کردہ سوچی کانفرنس کو مسترد کردیا تھا۔ پیر کے روز جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ماسکو اقوام متحدہ کے زیر سرپرستی جنیوا میں جاری امن عمل کو لپیٹنا چاہتا ہے۔ اپوزیشن نے روس پر شام میں جنگی جرائم کے ارتکاب کا الزام بھی عاید کیا۔

یہ بیان تقریبا 40 جماعتوں کی جانب سے جاری کیا گیا جن میں بعض وہ عسکری گروپ بھی شامل ہیں جو جنیوا میں امن بات چیت کے سابقہ ادوار میں شریک ہو چکے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ کسی سیاسی تصفیے تک پہنچنے کے لیے ماسکو کی جانب سے شامی حکومت پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا جا رہا۔ اپوزیشن کا مزید کہنا تھا کہ روس نے شامی عوام کے مسائل میں کمی کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا جب کہ وہ شامی بحران کا حل تلاش کرنے کے سلسلے میں ضامن ہونے کا دعوے دار ہے۔

شامی اپوزیشن کے بیان میں روس کو ایک دُشمن ریاست قرار دیا گیا ہے جس نے شامی عوام کے خلاف جنگی جرائم کا ارتکاب کیا اور عسکری طور پر بشار حکومت کی معاونت کی اور سات برس تک اس کا دفاع کیا۔

شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹیفن ڈی میستورا کے مطابق روس کی جانب سے کانفرنس کے انعقاد کے منصوبے کا اس بنیاد پر جائزہ لینا چاہیے کہ وہ جنیوا بات چیت کی معاونت میں کتنا کارآمد ثابت ہوگا۔روس کو 29 اور 30 جنوری 2018 کو سُوچی شہر میں شامی قومی مکالمہ کانفرنس کے انعقاد کے لیے ترکی اور ایران کی حمایت حاصل ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں