مصری فوج کے سابق چیف آف اسٹاف ریٹائرڈ جنرل سامی عنان

سابق مصری چیف آف اسٹاف سامی عنان’’ خلاف ورزیوں‘‘ پر پوچھ تاچھ کے لیے طلب

مصری فوج نے سامی عنان کے صدارتی انتخاب میں بطور امیدوار حصہ لینے کو اشتعال انگیزی قرار دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری فوج نے سابق چیف آف اسٹاف اور اب صدارتی امیدوار سامی عنان کو جعل سازی اور خلاف ورزیوں پر پوچھ تاچھ کے لیے طلب کر لیا ہے۔

فوج نے سامی عنان پر اپنی فوجی ملازمت کے خاتمے کے کاغذات میں جعل سازی کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کا صدارتی انتخاب میں حصہ لینا فوج کے خلاف اشتعال انگیزی کے زمرے میں آتا ہے۔تاہم فوج نے یہ نہیں بتایا ہے کہ سامی عنان نے کس قسم کی خلاف ورزیاں کی ہیں۔

مصری فوج نے ریٹائرڈ آرمی جنرل سامی عنان کا تعلق کالعدم مذہبی سیاسی جماعت الاخوان المسلمون سے بھی جوڑا ہے۔اس کا ثبوت یہ پیش کیا ہے کہ انھیں اخوان کے ایک سینیر رہ نما نے ایک خط لکھا ہے جس میں ان سے آیندہ صدارتی انتخابات میں بطور امیدوار حصہ لینے کی درخواست کی گئی تھی اور کالعدم جماعت کی جانب سے ان کی حمایت کی شرائط بیان کی گئی ہیں۔

الا خوان المسلمون کے رہ نما یوسف ندا نے اپنے فیس بُک صفحے پر سوموار کو یہ خط پوسٹ کیا ہے۔اس کے بعد صدر عبدالفتاح السیسی کے حامی مصری میڈیا نے سامی عنان کا کالعدم جماعت سے ناتا جوڑ دیا ہے او ر ان کے خلاف ایک مہم برپا کردی گئی ہے۔

اور تو اور سابق جنرل کی جماعت عرب ازم مصر ی پارٹی کی پالیسی کمیٹی کے سابق سیکریٹری رجب ہلال حمدہ نے بھی لندن میں ایک نیوز کانفرنس میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ سامی عنان صدارتی امیدوار کے طور پر نامزدگی کے لیے اخوان المسلمو ن کو استعمال کررہے ہیں۔حمدہ نے اس نیوز کانفرنس میں جماعت سے مستعفی ہونے اور صدر عبدالفتاح السیسی کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے اور کہا ہے کہ وہی حقیقی معنوں میں ملک کے لیڈر ہیں۔

سامی عنان کو مصری آئین کے تقاضوں کے مطابق صدارتی امیدوار بننے کے لیے 25 ہزار ووٹروں کے دست خط درکار ہیں۔ان کی صدارتی مہم نے ان دست خطوں کے لیے سرگرمیاں شروع کردی ہیں ۔دوسری صورت یہ ہے کہ وہ 596 اراکین پر مشتمل پارلیمان کے کم سے کم 20 ارکان کی حمایت حاصل کر لیں۔انھیں صدارتی امیدوار بننے کے لیے مسلح افواج کی سپریم کونسل سے بھی منظوری حاصل کرنا ہوگی۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں