یمن

تعزمیں تین روزہ آپریشن میں کئی علاقے آزاد،110 حوثی جنگجو ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی تزویراتی اہمیت کی حامل تعز گورنری میں ایران نواز حوثی ملیشیا کے خلاف یمنی فوج کا آپریشن فیصلہ کن مرحلےمیں داخل ہوگیا ہے۔اطلاعات کے مطابق یمنی فوج اور اس کی حامی ملیشیا نے تعز کے مزید کئی اہم مقامات باغیوں سے چھین لیے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یمنی فوج نے حوثیوں کی طرف سے تعز کا کیا گیا محاصرہ توڑ کر شہر کے اندر کارروائیاں شروع کردی ہیں۔ تازہ کارر وائیوں کے دوران متعدد باغیوں کو ہلاک کرنے کے ساتھ ساتھ 8 کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

تعز گورنر میں سرکاری فوج کے زیراتنظام میڈیا سیل کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پچھلے تین روز سے جاری لڑائی میں تعز کے مغرب اور مشرق کی اطراف سے کئی ٹیلوں، قصبوں اور پہاڑی علاقوں کو باغیوں سے واپس لیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ شہر کے مغرب کی طرف سے پیش قدمی کرتے ہوئے سرکاری فوج نے جبل ھان الربیعی اور شمال میں تبہ یاسین، الدار قصبہ اور متعدد یگر مقامات سےباغیوں کو نکال باہر کیا گیا ہے۔

سرکاری فوج نے تعز میں ابعر، الصرمین، صالہ اور الزیلعی کے مقامات کو ملانے والے مقامات، وتبہ اور مشرق میں الکریفات کو باغیوں سے چھڑالیا۔ اس دوران بالائی ابعر میں کارروائی کے دوران آٹھ حوثی شدت پسندوں کو حراست میں لیا گیا۔

تعز میں سرکاری فوج کے فیلڈ کمانڈر میجر جنرل خالد فاضل نے اگلے مورچوں کا دورہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گذشتہ تین ایام میں تعز گورنری میں باغیوں کے خلاف کیے گئے آپریشن میں 110جنگجوؤں کو ہلاک اور دسیوں کو گرفتار یا زخمی کیا گیا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں