Egyptian Army's Armoured Vehicles are seen on a highway to North Sinai during a launch of a major assault against militants, in Ismailia, Egypt, in this undated handout picture made available by the Ministry of Defence February 9, 2018. Ministry of Defence/Handout via REUTERS ATTENTION EDITORS - THIS IMAGE WAS PROVIDED BY A THIRD PARTY. NO RESALES. NO ARCHIVES
مصری فورسز کے سیناء میں بڑے آپریشن میں 38 جنگجو ہلاک ،500 گرفتار
مصر کی سکیورٹی فورسز نے جزیرہ نما سیناء میں جاری بڑی کارروائی میں 38 جنگجوؤں کو ہلاک کردیا ہے اور پانچ سو سے زیادہ جنگجوؤں اور مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
مصری فوج نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے انتہائی خطرناک 10 انتہا پسندوں کو ہلاک کردیا ہے۔اس سے پہلے اس نے 28 جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کی اطلاع دی تھی۔
بیان میں بتایا گیا ہے کہ مزید چار سو مشتبہ جرائم پیشہ عناصر کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔اس سے پہلے اس نے 126 جنگجوؤں کی گرفتاری کی اطلاع دی تھی۔
فوج کے ترجمان کرنل تامر الرفاعی نے بیان میں بتایا ہے کہ ’’ فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہونے والے جنگجو (شمالی سیناء کے دارالحکومت ) العریش شہر میں ایک مکان میں چھپے ہوئے تھے۔فوجی کارروائی میں متعدد گاڑیوں اور ان کے ٹھکانوں کو بھی تباہ کردیا گیا ہے‘‘۔
مصری فوج نے گذشتہ جمعہ کو اسرائیل اور غزہ کی پٹی کے ساتھ سرحد پر واقع جزیرہ نما سیناء ، وسطی نیل ڈیلٹا اور لیبیا کی سرحد کے ساتھ واقع مغربی صحرا میں ’’ آپریشن سیناء 2018ء ‘‘ کے نام سے جنگجوؤں کے خلاف ایک نئی فوجی کارروائی کا اعلان کیا تھا۔
یہ فوجی کارروائی ایسے وقت میں کی جارہی ہے جب صدر عبدالفتاح السیسی مارچ میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں دوبارہ منتخب ہونے کے لیے امیدوار ہیں۔ ان کی پہلی مدت صدارت میں سکیورٹی فورسز سیناء میں بالخصوص اور ملک کے دوسرے علاقوں میں بالعموم مسلسل انتہا پسندوں اور جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کرتی رہی ہیں لیکن وہ داعش سے وابستہ جنگجوؤں کا مکمل طور پر خاتمہ نہیں کرسکی ہیں۔شمالی سیناء سے تعلق رکھنے والے داعش سے وابستہ جنگجو ملک کی سکیورٹی فورسز ،قبطی عیسائیوں اور ان کی عبادت گاہوں پر وقفے وقفے سے تباہ کن حملے کرتے رہے ہیں۔