قطر

کیا فٹ بال کپ 2022ء کی میزبانی قطر کے ہاتھ سے نکلنے والی ہے؟

متوقع طور پراگلا میزبان امریکا یا انگلینڈ ہوسکتا ہے:اخبار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک جرمن جریدے نے انکشاف کیا ہے کہ بین الاقوامی فٹ بال فیڈریشن جلد ہی سنہ 2022ء کے عالمی فٹ بال کپ کی میزبانی قطر سے واپس لے کر امریکا یا انگلینڈ میں سے کسی ایک کودینے کی تیاری کررہی ہے۔ اخباری رپورٹ کے مطابق اس امر کا حتمی فیصلہ رواں سال موسم گرما میں کیا جائے گا۔

جرمن اخبار ’فاکس‘ کے مطابق ’فیفا‘ نے قطر کی فٹ بال کی میزبانی سے متعلق اقدامات تبدیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس ضمن میں فیڈریشن کے تمام 211 رکن ملکوں کو یہ اختیار ہوگا کہ وہ اپنی مرضی سے نمایاں طورپر کسی بھی نامزد دوسرے ملک کے حق میں ووٹ دے سکیں گے۔

خیال رہے کہ ماضی میں ’فیفا‘ کی ایگزیکٹو کمیٹی کی موجودگی میں فیڈریشن کے صرف 24 ارکان کو میزبان ملک کے انتخاب کا حق حاصل رہا ہے تاہم شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے مزید اقدامات کیے جا رہے ہیں جن میں تمام ارکان ممالک کو فیڈریشن میں میزبانی کے لیے ہونے والی رائےشماری میں حصہ لینے کا موقع فراہم کرنا ہے۔

مغربی اخبارات اور ذرائع ابلاغ اپنی رپورٹس میں قطر پر کرپشن کا الزام عاید کرتے رہےہیں۔ اخباری رپورٹس کے مطابق قطر کی بدعنوانی دوحہ کو فٹ بال کی میزبانی سے محروم کرسکتی ہے۔ قطر نہ صرف 2022ء کے فٹ بال کپ کی میزبانی سے محروم ہوسکتا ہے بلکہ 2018ء کے عالمی کپ کی نشریات سے بھی محرومی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

حال ہی میں’بی بی سی‘ کی ایک رپورٹ میں بھی کہا گیا تھا کہ سعودی عرب، امارات، بحرین اور مصرکی جانب سے قطر کے سفارتی اور اقتصادی بائیکاٹ کےبعد دوحہ عالمی کپ کی تیاری کے لیے کام کرنے والی کمپنیوں نے کام چھوڑنے کا عندیہ دیا ہے۔ نیز ان چار عرب ممالک کے بائیکاٹ کے باعث قطر کی عالمی کپ کی میزبانی داؤ پر لگ سکتی ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں