اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو وزیر توانائی اور آبی وسائل یووال اسٹینٹز سے مقبوضہ بیت المقدس میں کابینہ کے اجلاس کے دوران میں گفتگو کررہے ہیں۔

اسرائیل پر شام سے حملہ ہوا تو بشارالاسد کو قیمت چکانا پڑے گی:صہیونی وزیر

شامی صدر ایران کو چھوٹ دے کر ملکی نظام اور اپنے وجود ہی کو خطرے سے دوچار کررہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کے ایک اعلیٰ عہدہ دار نے خبردار کیا ہے کہ اگر صہیونی ریاست پر شام سے ایران نے حملہ کیا تو اس کی قیمت بشارالاسد کو چکانا پڑے گی ۔

اسرائیلی وزیر برائے انفر ااسٹرکچر ، انرجی اور آبی وسائل یو وال اسٹینٹز نے سوموار کو وائی نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ اگر (شامی صدر بشار) اسد نے ایرانیوں یا کسی اور عنصر کو شام کی سرزمین سے اسرائیل پر حملے کی اجازت دی تو اس کے نتائج ان ہی کوبھگتنا پڑیں گے‘‘۔

اسرائیلی وزیر نے کہا کہ ’’وہ(بشارالاسد) اپنے نظام اور اپنے وجود ہی کو خطرے سے دوچار کررہے ہیں۔‘‘

انھوں نے کہا کہ شام میں جو کچھ ہورہا ہے،وہ اسرائیل کے مستقبل اور اس کی سکیورٹی کے لیے اہمیت کاحامل ہے۔انھوں نے امید ظاہر کی ہے کہ معاملات اس حد تک خراب نہیں ہوں گے کہ ایک مکمل جنگ چھڑ جائے۔انھوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی شمالی سرحد پر ایران کی فوجی موجودگی کو روکنے کے لیے پُرعزم ہے۔

واضح رہے کہ شام اور اسرائیل گولان کی چوٹیوں پر تنازع کی وجہ سے 1980ء کے عشرے سے حالت جنگ میں ہیں ۔اسرائیلی فوج شام میں مارچ 2011ء سے جاری خانہ جنگی اور جنگ کے دوران میں متعدد فضائی حملے کر چکی ہے۔ البتہ اس نے شام میں صرف لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے ہتھیاروں کے ڈپوؤں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا ا عتراف کیا ہے اور بعض دوسرے پُراسرار حملوں کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں