Russian President Vladimir Putin meets with Syrian President Bashar al-Assad in the Black Sea resort of Sochi, Russia May 17, 2018. Reuters

روس کا شام سے ایران نواز ملیشیاؤں کے کوچ کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے لیے روسی صدر کے نمائندے الیگزینڈر لافرنتیو نے باور کرایا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوتن نے شام سے غیر ملکی فورسز کے انخلاء کے حوالے سے جو بیان دیا ہے اس سے ان کی مراد ایرانی فورسز، حزب اللہ اور ترک اور امریکی افواج ہیں۔

جمعے کے روز اخباری بیان میں نمائندے نے واضح کیا کہ سُوشی میں بشار الاسد کے ساتھ جمعرات کو ملاقات کے دوران صدر پیوتن کا دیا گیا بیان شامی سرزمین پر موجود تمام عسکری گروپوں کے لیے ہے جن میں امریکیوں ، تُرکوں اور ایرانیوں کے علاوہ حزب اللہ بھی شامل ہے۔

لافرنتیو نے زور دے کر کہا کہ اس حوالے سے روسی صدر کی بات ایک "سیاسی پیغام" ہے۔

روسی عہدے دار نے مزید کہا کہ "یہ معاملہ انتہائی پیچیدہ ہے اس لیے کہ ان اقدامات پر اجتماعی طور پر عمل درامد کرنا ہوگا۔ اس عمل کو استحکام کو مضبوط بنائے جانے کے ساتھ متوازی طور انجام دینا ہو گا اس لیے کہ عسکری پہلو اختتام پذیر ہے اور اس وقت تصادم اختتامی مراحل میں ہے"۔

روسی صدر نے جمعرات کے روز بشار الاسد سے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ "ہم یہاں سے آغاز کریں گے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نمایاں نصرتوں اور شامی فوج کی کامیابی کے علاوہ سیاسی عمل کے سرگرم مرحلے کے آغاز کے بعد آئندہ شامی اراضی سے غیر ملکی مسلح فورسز کا انخلاء بھی شروع ہو جائے گا"۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں