libia

لیبیا: قذافی دور کے متعدد انٹیلی جنس افسر جیل سے رہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزارت انصاف نے سابق مقتول لیڈر معمر قذافی دور کے متعدد عہدیداروں سمیت بعض سیاسی قیدیوں کو عارضی طورپر جیلوں سے رہا کردیاگیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق لیبیا کے پراسیکیوٹر جنرل کےتحقیقات سے متعلق ڈائریکٹر کے مطابق سابق رجیم کے عہدیدار اور سیاسی رہ نماؤں کو خرابی صحت کی بناء پر رہا کیا گیا ہے۔

مقامی اخبارات میں شائع اس بیان میں کہا گیا ہے کہ وزارت قانون وانصاف کے زیراہتمام قیدیوں کی رہائی کے امورکی نگران کمیٹی نے بعض قیدیوں کو رہا کرنے کی سفارش کی تھی۔ ان میں مقتول معمر قذافی کے دور میں انٹیلی جنس سے وابستہ بعض عہدیدار بھی شامل ہیں۔

رہائی پانے والوں میں قذافی دور کے بیرون ملک انٹیلی جنس افسر ابو زید دوردہ، سابق ملٹری انٹیلی جنس افسر عبدالحمید اوحیدا عمار، سابق پائلٹ جبریل الکادیکی، جمال الشاھد اور دیگر عہدیدار شامل ہیں۔

پراسیکیوٹر جنرل کے تفتیشی امور کے ڈائریکٹرصدیق الصور نے ایک بیان میں بتایا کہ طویل عرصے سے حراست میں رہنے کے باعث ان قیدیوں کی صحت پر برے اثرات مرتب ہوئے تھے۔ انہیں کسی دوسرے مقام پر منتقل کرنا ضروری تھا تاہم عارضی طورپر انہیں جیل سے رہا کیا گیا ہے۔ ضرورت پڑنے پر انہیں دوبارہ گرفتار کیا جاسکتا ہے۔

رہا کئے گئے سابق انٹیلی جنس حکام پر سنہ 2011ء میں معمر قذافی کے خلاف عوامی بغاوت کچلنے کے لیے طاقت کے استعمال اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے الزامات عاید کیے گئے ہیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں