Captive

شام میں یرغمال اطالوی کی رہائی کے لیے مدد کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں شدت پسندوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے ایک اطالوی شہری نے اپنی رہائی کے لیے حکومت سے مدد کی اپیل کی ہے۔

اٹلی کے سرکاری ٹی وی چینل پر بُدھ کے روز نشرکی گئی ایک ویڈیو فوٹیج میں 32 سالہ الیسانڈرو سانڈرینی کو نقاب پوش عسکریت پسندوں کی قید میں دکھایا گیا ہے۔

اٹلی کے شمالی شہر بریشا کے نواحی علاقے فولزانو کے رہائشی کو ’گوانتا مو‘ جزیزے میں قائم بدنام زمانہ امریکی عقوب خانے میں قیدیوں کو پہنائے جانے والےنارنجی رنگ کے قیدیوں والے لباس میں دیکھا جا سکتا ہے۔

خیال رہے کہ سانڈرینی کو 3 اکتوبر2016ء کو ایک شدت پسند تنظیم نے یرغمال بنالیا تھا۔ عسکریت پسند گروپ نے مغوی کی رہائی کے بدلے تاوان کا مطالبہ کیا ہے۔ اطالوی پراسیکیوٹر جنرل نے شہری کو یرغمال بنائے جانے کے واقعے کی تحقیقات شروع کی ہیں۔

اطالوی شہری کا کہنا ہے کہ وہ شام میں ایک جاپانی صحافی جمبی یاسوڈا کے ہمراہ قید ہے تاہم یرغمال بنانے والے گروپ کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔

اطالوی وزارت خارجہ کا کہناہے کہ وہ شام میں یرغمال اپنے شہری کی بازیابی کے لیے کام کررہی ہے اور اس سلسلے میں مختلف اطراف سے رابطے بھی کیے گئے ہیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں