A Syrian soldier looks over at the town of Daraa from his position in the southern city of Sweida on January 23, 2013. Bloodstained clothes, charred facades of homes and collapsed buildings show the intensity of the fighting between the army and residents of the Druze mountain in southern Syria and the rebels of Daraa. AFP PHOTO/ANWAR AMRO

شامی فوج کا سویداء صوبے پر مکمل کنٹرول

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد کے مطابق شامی سرکاری فوج نے داعش تنظیم کے ساتھ شدید لڑائی کے بعد سویداء صوبے کے مشرقی اور شمال مشرقی حصّے پر بھی کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ اس طرح اب پورا صوبہ شامی فوج کے کنٹرول میں آ گیا ہے۔

شامی سرکاری میڈیا نے بتایا ہے کہ اس لڑائی کے دوران متعدد شدت پسند مارے گئے اور بقیہ فرار ہو گئے۔

سویداء صوبے پر شامی فوج کا کنٹرول تقریبا 10 روز تک جاری رہنے والی گھمسان کی معرکہ آرائی کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس دوران شامی فوج نے داعش کے ٹھکانوں پر شدید گولہ باری کا سلسلہ جاری رکھا۔

اس وقت دمشق اور سویداء کے درمیان انتظامی سرحد پر شامی فوج اور اس کی ہمنوا ملیشیاؤں کی داعش تنظیم کے ساتھ لڑائی جاری ہے۔ شامی فوج شدت پسند تنظیم کو سویداء کے دیہی علاقوں میں واپس آنے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اس سے قبل روس نے علاقے میں سرگرم تحریک "رجال الکرامہ" سے مطالبہ کیا تھا کہ سویداء کے دیہی علاقے کے اطراف پھنسے ہوئے تقریبا 2000 شامی شہریوں کو "اُن کے ابتر انسانی حالات کے پیشِ نظر" درعا صوبے منتقل ہونے کی اجازت دی جائے۔ تاہم مذکورہ تحریک کے سربراہ نے اس تجویز کو سختی سے مسترد کر دیا۔ اُن کا کہنا ہے کہ داعش تنظیم کے ہاتھوں اغوا ہونے والے سویداء صوبے کے باسیوں کا معاملہ اس وقت اولین ترجیح ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں