Your browser doesn’t support HTML5 video
جزیرہ سیناء کے قبائل کودہشت گردی کے خلاف جنگ میں جھونکنے کی حقیقت!
مصر میں بعض ذرائع ابلاغ میں آنے والی ان خبروں کو بے بنیاد قرار دیا گیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ فوج نے جزیرہ نما سیناء کے قبائل کو دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے لیے مسلح کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
"العربیہ" نیوز چینل نے ان خبروں کی چھان بین کے بعد مصری حکام سے بات کی تو معلوم ہوا کہ جزیرہ سیناء کے قبائل کو دہشت گردوں کے خلاف لڑنے کے لیے مسلح کرنے کا کوئی پلان تیار نہیں کیا گیا۔ مصر کے تمام سیکیورٹی ادارے خود ہی انتہا پسندی اور دہشت گردی سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مصری حکام اور مبصرین کا کہنا ہے کہ جزیرہ نما سیناء کے قبائلیوں کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شامل کرنے اور انہیں مسلح کرنے کی افواہوں کا مقصد فوج کی صلاحیت پر شکوک وشبہات پیدا کرنا ہے۔
مصری پارلیمنٹ میں قومی سلامتی اور دفاع کمیٹئ کے رکن کرنل محمود محیی الدین کا کہنا ہے کہ ذرائع ابلاغ میں جزیرہ نما سیناء کے قبائل کو مسلح کرنے کی خبریں بے بنیاد ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلحہ اٹھانے کی اجازت صرف سیکیورٹی اداروں کو ہے۔ قبائل مصری فوج اور دیگر سیکیورٹی اداروں میں اپنے طورپر معاونت کرتے ہیں مگر انہیں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مسلح نہیں کیا جا رہا ہے۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ قبائل کو مسلح کرنے کی افواہوں کے پیچھے کالعدم اخوان المسلمون اور اس کے حامی عناصر کا ہاتھ ہے۔
خیال رہے کہ جزیرہ نما سیناء میں مصری فوج طویل عرصے سے دہشت گردوں کے خلاف نبرد آزما ہے۔ رواں سال فروری میں مصری فوج نے جزیرے میں دہشت گردں کے خلاف وسیع پیمانے پر فیصلہ کن آپریشن شروع کیا تھا۔