Your browser doesn’t support HTML5 video
مصر : آثار قدیمہ کی نئی دریافت ، حنوط شدہ بلیاں اور بھونرے
مصر میں وزارت آثاریات نے الجیزہ صوبے کے علاقے سقارہ میں مقبروں کا ایک نیا مجموعہ دریافت ہونے کا انکشاف کیا ہے۔ ان میں جدید ریاست کے تین اور قدیم ریاست کے چار مقبرے شامل ہیں۔
مصر کے وزیر آثاریات خالد العنانی نے ہفتے کے روز ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ماہرین آثاریات کی ٹیم کو ان مقبروں کے اندر ایک بڑی تعداد میں بلیوں کے مجسّمے اور بلیوں کی حنوط شدہ لاشیں ملی ہیں۔
العنانی کے مطابق یہ اُن تین دریافتوں میں پہلی دریافت ہے جن کے بارے میں مصری وزارت آثاریات نے اعلان کیا تھا کہ سال 2018ء کے اختتام سے قبل ان کا اعلان کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ سقارہ مصر کے اہم ترین آثاریاتی مقامات میں سے ایک ہے۔ اس کی لمبائی سات کلو میٹر اور چوڑائی ڈیڑھ کلو میٹر ہے۔ یہ 1979ء سے اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیم یونیسکو کی عالمی ورثے کی فہرست میں شامل ہے۔
مصر میں آثاریات کی سپریم کونسل کے سکریٹری جنرل مصطفی وزیری نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ "ماہرین کی ٹیم کو بلیوں کے 200 سے زیادہ مجسّمے ملے۔ ان کے علاوہ ایک بکس ملا جس میں 200 بھونرے تھے۔ ایک اور بکس میں حنوط شدہ بھونرے بھی پائے گئے۔ یہ پہلا موقع ہے جب سقارہ کے علاقے سے حنوط شدہ بھونرے دریافت ہوئے ہیں"۔
mummies
وزیری نے مزید بتایا ہے کہ ماہرین کو پیپرس کے پتّے بھی ملے جن پر قدیم مصری زمانے کے خط Demotic اور Hieratic میں کچھ تحریر ہے۔ اس کے علاوہ حنوط شدہ مگرمچھ وار کوبرا سانپ بھی دریافت ہوا ہے۔
نئے دریافت مقبروں سے نکالی جانے والی اشیاء کو سقارا کے میوزیم میں 15 نومبر سے ایک ماہ کے عرصے کے لیے نمائش کے لیے رکھا جائے گا۔