Britain ambassador in Iran

آئل ٹینکروں پرحملوں میں ملوث ہونے کا الزام عاید کرنے پرایران کا برطانیہ سے احتجاج

تہران میں برطانوی سفیر کی دفتر خارجہ میں طلبی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے خلیج عُمان میں دو تیل بردار جہازوں پر ہونے والے حملوں میں تہران کے ملوث ہونے کے الزامات کے بعد برطانیہ سے شدید احتجاج کرتے ہوئے تہران میں متعین برطانوی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کرکے شدید احتجاج کیا گیا ہے۔

ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق وازارت خارجہ نے برطانوی وزیرخارجہ کے اس بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے جس میں ایران پر خلیج عُمان میں دو تیل بردار جہازوں پر حملوں‌میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کا خلیج عُمان میں تیل بردرا جہازوں‌ پرحملوں‌ سےکوئی تعلق نہیں۔ برطانیہ کی طرف سے ایران کو ملوث قراردینے کا بیان ناقابل قبول ہے۔ برطانیہ کےاس موقف پرتہران نے احتجاج کے لیے برطانوی سفیر کودفتر خارجہ طلب کرکے احتجاجی یاداشت ان کے حوالے کی۔

خیال رہے کہ برطانوی وزیرخارجہ جیرمی ہنٹ نے جمعہ کی شام ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کے ملک کویقین ہے کہ خلیج عُمان میں دو تیل بردار جہازوں‌پر حملے میں ایرانی پاسداران انقلاب کا ہاتھ ہے۔

برطانوی وزیرخارجہ نے کہا کہ جمعرات کے روز خلیج عُمان میں دو تیل بردار جہازوں پر حملے کا کسی اور ملک کو فائدہ نہیں ہوسکتا اور نہ ہی ایران کے سوا کوئی دوسرا ملک اس واقعے کا ذمہ دار ہے۔

جیرمی ہنٹ نے کہا کہ ایران ماضی میں بھی تیل بردار جہازوں‌پر حملوں میں ملوث پایا گیا ہے۔ ہماری تحقیقات اور ان کے نتائج یہ بتا رہے ہیں کہ تیل بردار جہازوں‌ پرحملوں‌میں‌ایرانی پاسداران انقلاب کاہاتھ ہے۔ ایران خطے کو افراتفری کا شکار کرنا چاہتا ہے اور پورے خطے کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن کر اُبھر رہا ہے۔

برطانوی وزیرخارجہ نے ایران پر خطے کو عدم استحکام سےدوچار کرنے کی سرگرمیاں‌فوری طورپر بند کرنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ 12 مئی کو متحدہ عرب امارات کی الفجیرہ ریاست کےقریب علاقائی پانیوں میں چار تیل بردار جہازوں پرحملے میں بھی ایران کا ہاتھ تھا۔

خیال رہے کہ جمعرات کے روز خلیج عُمان میں ایک جاپانی تیل بردارد جہاز کواماراتی پانیوں‌کی طرف جاتے ہوئے تخریب کاری کی کارروائی کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجےمیں تیل بردار جہاز پر آگ بھڑک اٹھی تھی۔ اس کارروائی میں ایک نارویجن بحری جہاز کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب دوسری جانب امریکا اور ایران ایک دوسرے کے خلاف حالت جنگ میں ہیں۔

خیال رہے کہ عُمَان کی خلیج میں دو تیل کے ٹینکروں پر ہونے والے حملوں کے بعد عملے کے درجنوں افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا تھا۔

جہاز ران کمپنیوں کا کہنا تھا کہ کوکوکا کریجیئس ٹینکر جو کہ جاپان کی ملکیت ہے پر موجود 21 افراد جبکہ فرنٹ الٹیئر، جو کہ ناروے کی ملکیت ہے، پر موجود 23 افراد کو نکال لیا گیا ہے۔ ریاستی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ایران نے 44 افراد کو 'حادثے' کے بعد بچا لیا۔ تاہم حادثے کی وجہ کی تصدیق نہیں کی گئی تھی۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں