خواتین سیاحوں نے گائیڈ کی مدد سے نیوم شہر کا دورہ کیا
'نیوم سٹی' میں سعودی خواتین سیاحوں کے پہلے وفد کی آمد
سعودی عرب کے جدید ترین سیاحتی اور تجارتی شہر'نیوم' کی سیر وسیاحت کے لیے اندرون اور بیرون ملک سے سیاحوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ مملکت کے اندر سے خواتین سیاحوں کےایک وفد نے پہلی بار اس شہر کا دورہ کیا ہے۔ اس وفد میں 20 سعودی خواتین شامل تھیں۔
تبوک سے شروع ہونے والا یہ سفر 19 گھنٹے پر محیط رہا۔ خواتین نے البدع گورنری سے گذرتے ہوئے وادی شعیب کی غاروں، مقنا مرکز، ہیڈ کواٹرز، تاریخی مقام عین موسیٰ، الطیب اسم اور واپسی پر راس الشیخ سے ہوتے ہوئے تبوک تک کا سفر کیا۔
ٹور گائیڈ ھبہ العایدی نے سعودی پریس ایجنسی 'ایس پی اے' کو بتایا کہ تبوک سے نیوم میں پہنچنے والا خواتین کا پہلا وفد ہے۔ خواتین سیاحوں کو دو گائیڈز کی سہولیات فراہم کی گئی تھیں جنہوں نے ان کے اس ٹور کو کامیاب بنانے اور سیر وتفریح میں ان کی مدد کی۔
ان کا کہنا تھا کہ جدید سہولیات سے آراستہ سیاحتی ٹورز کا مقصد نیوم کے علاقے میں سیاحت کو فروغ دینا ہے۔ نیوم سٹی خلیج عقبہ کے علاقے میں تین ممالک کا مشترکہ سیاحتی اور تجارتی پروجیکٹ ہے جو اس خطے میں مستقبل کی سب سے بڑا سیاحتی مرکز بن سکتا ہے۔
اسی بارے میں
-
نیوم: دنیا کے سب سے بڑے کاربن فری نظام اور قابلِ تجدید توانائی کا مرکز -
سعودی عرب : نیوم کے ہوائی اڈے پر آج سے پروازوں کی آمدورفت کا آغاز -
سعودی عرب '5G' سروس استعمال کرنے والا خطے کا پہلا ملک بن گیا -
نیوم سٹی کے قریب تبوک کے نظروں کو خیرہ کرنے والے مناظر! -
نیوم میں واقع پہلا شہر 2020ء تک تیار ہوجائے گا: سعودی ولی عہد -
سعودی کابینہ کا نیوم میں اجلاس ، کینیڈا کا مؤقف پھر مسترد