Iraq
عراق : بصرہ میں مرکزی راستے بند ، ذی قار میں مظاہرین پر فائرنگ
عراق کے مختلف علاقوں میں پیر کی شب ایک بار پھر جھڑپیں چھڑ گئیں۔ اس کے نتیجے میں متعدد مظاہرین زخمی ہو گئے۔ اس کے علاوہ سیکورٹی اہل کار سمیت کئی لوگ مولٹوو بم کے سبب دم گھٹنے کا شکار بھی ہوئے۔ آج منگل کے روز جنوبی عراق کے علاقوں میں مظاہرین نے راستوں اور پُلوں کو بند کر دیا ہے۔
عراقی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ملک کے جنوب میں دریائے فرات کے کنارے واقع شہر سماوہ میں بڑا احتجاج ہوا۔ مظاہرین نے جو ملک میں اصلاحات اور بدعنوانی کی برطرفی کا مطالبہ کر رہے تھے ،،، شہر کی سڑکوں کو بند کر دیا اور راستوں میں ٹائروں کو نذر آتش کیا۔
العربیہ کے نمائندے کے مطابق سماوہ مظاہرے میں احتجاج کرنے والے اسکول طلبہ کے ساتھ جھڑپوں میں سیکورٹی فورسز کے کئی اہل کار زخمی ہوئے۔ طلبہ نے شہر میں ایجوکیشن ڈائرکٹریٹ کی عمارت بند کرنے کی کوشش کی تھی۔
عراقی حکام نے منگل کے روز سیکورٹی وجوہات کی بنا پر ذی قار صوبے میں سرکاری تعطیل کا اعلان کر دیا۔ گذشتہ روز صوبے میں مشتعل مظاہرین نے ارکان پارلیمنٹ کے گھروں اور سرکاری دفاتر کو آگ لگا دی تھی۔ العربیہ کے نمائندے کے مطابق منگل کے روز نامعلوم افراد نے سڑکوں پر نکلنے والے مظاہرین کی جانب فائرنگ کر دی۔
ذی قار صوبے کی پولیس کمان نے پیر کے روز بتایا کہ صوبے کے شمال میں الغراف آئل فیلڈ کے نزدیک مظاہرین کے ساتھ تصادم میں زخمی ہونے والے پولیس اہل کاروں کی تعداد 28 ہو گئی۔
ادھر بصرہ میں العربیہ کے نمائندے کے مطابق صوبے کی مرکزی شاہراہیں مسلسل تیسرے روز بھی بند ہیں۔ اس دوران مرکزی پُلوں کو بھی بند کر دیا گیا ہے جن میں ام قصر اور خور الزبیر کی بندرگاہوں کے علاوہ کھاد کی فیکٹری اور بجلی پیدا کرنے والے گیس اسٹیشن کو جانے والے راستے بھی شامل ہیں۔
نجف میں بھی مظاہرین نے احتجاج کے دوران کئی سڑکوں اور پُلوں کو بند کر دیا۔
دوسری جانب بابل صوبے میں سیکورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ پیر کی شب عراق سیکورٹی فورسز کی جانب سے آنسو گیس کا استعمال کرنے کے نتیجے میں متعدد شہری زخمی ہو گئے۔ بعض کارکنان کے مطابق زخمی شہریوں کی تعداد 60 کے قریب ہے۔
کربلا صوبے میں بتایا گیا ہے کہ سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں 9 مظاہرین زخمی ہو گئے۔ جھڑپوں کا آغاز پیر کی شام اُس وقت ہوا جب مظاہرین نے کئی سڑکیں بند کر دیں اور ٹائروں کو آگ لگائی۔
دارالحکومت بغداد میں شہری دفاع کے ڈائرکٹریٹ نے بتایا کہ پیر کی شام شہر کے وسط میں شارع رشید پر سیکورٹی فورسز کو مولٹوو بموں سے نشانہ بنایا گیا۔ اس کے نتیجے میں ایک افسر اور دس اہل کار زخمی ہو گئے۔
یاد رہے کہ عراق میں عوامی احتجاج کی موجودہ لہر یکم اکتوبر سے جاری ہے۔ اس دوران عوام سیاسی طبقے کی بدعنوانی کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں۔ حالیہ مظاہروں کو کئی دہائیوں سے عراق میں سب سے زیادہ خون ریز احتجاج قرار دیا جا رہا ہے۔ مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران آنسو گیس کے گولوں ، براہ راست فائرنگ ، ربڑ کی گولیوں اور صوتی بموں کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے۔