Your browser doesn’t support HTML5 video
نیس کے تونسی حملہ آور نے اہل خانہ کو چرچ کے سامنے سے تصویر بھیجی تھی
فرانس کے شہر نیس میں نوترے ڈیم چرچ کے نزدیک چاقو سے حملہ کرنے والے نوجوان ابراہیم العویساوی کا تعلق تونس کے صوبے صفاقس میں واقع علاقے طینہ سے ہے۔
جمعرات کی صبح پیش آنے والے واقعے کے بعد علاقے میں بالخصوص ابراہیم کے گھر میں سوگ کی فضا چھائی ہوئی ہے۔ العربیہ پہلا چینل ہے جس نے ابراہیم کے تونس میں واقع آبائی گھر کا دورہ کیا۔ اس موقع پر صدمے سے دوچار ابراہیم کی ماں نے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔
اس دوران ابراہیم کی ماں نے روتے ہوئے بتایا کہ ابراہیم نے فرانس پہنچتے ہی اپنی ماں کو فون کیا۔ تاہم ماں کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ اس کا بیٹا کیا کرنے والا ہے۔
ابراہیم کے بھائی نے العربیہ سے گفتگو میں بتایا کہ ابراہیم نے گھر والوں سے فون پر بات چیت کے دوران بتایا تھا کہ وہ چرچ (نوترے ڈیم کا تاریخی چرچ جس کے باہر حملہ ہوا) کے سامنے ہی رات گزارے گا۔ ابراہیم نے چرچ کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی ایک تصویر بھی بھیجی۔
ابراہیم کے گھرانے کے ایک پڑوسی کے مطابق اس اکیس سالہ نوجوان کا شدت پسندی یا دہشت گردی کی طرف کوئی میلان نہیں تھا۔ اطالیہ کا سفر کرنے سے قبل وہ تونس میں بہت سے کام کر چکا تھا۔
یاد رہے کہ نیس کے حملہ آور کے بارے میں اعلان ہونے کے ساتھ ہی دارالحکومت تونس سٹی سے انسداد دہشت گردی کی ایک ٹیم صفاقس روانہ ہو گئی۔ اس ٹیم نے ابراہیم کے گھر والوں کے DNA کے نمونے حاصل کیے۔ تحقیقات کے نتائج کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
فرانس میں دہشت گردی کے امور سے متعلق سینئر سرکاری عہدے دار جان فرانسوا ریکارد نے جمعرات کے روز اعلان کیا تھا کہ نیس کا حملہ آور ابراہیم جمعرات کی صبح ٹرین کے ذریعے فرانس پہنچا تھا اور اس کے پاس اطالوی صلیب احمر تنظیم کی دستاویز تھی۔ بعد ازاں اس نے نوترے ڈیم چرچ کا رخ کیا۔ حملہ آور نے وہاں چاقو سے وار کر کے چرچ کے 55 سالہ خادم کو قتل کیا، ایک 60 سالہ خاتون کا سر قلم کیا اور ایک اور 44 سالہ خاتون کو شدید زخمی کیا۔ یہ خاتون جائے حادثہ سے فرار ہونے میں کامیاب رہی مگر بعد ازاں دم توڑ گئی۔
جان فرانسوا کے مطابق حملہ آور تونسی ہے اور اس کی پیدائش 1999ء میں ہوئی۔ تونسی اور فرانسیسی سیکورٹی اور پولیس ذرائع کے مطابق حملہ آور کا نام ابراہیم العویساوی ہے۔