أنور قرقاش
متحدہ عرب امارات اپنی سرزمین کے دفاع کا قانونی حق رکھتا ہے: انور قرقاش
متحدہ عرب امارات کے صدر کے مشیر انور قرقاش نے کہا ہے کہ ’ان کا ملک اپنی سرزمین اور شہریوں کے دفاع کا قانونی و اخلاقی حق رکھتا ہے۔‘
اماراتی صدر کے مشیر نے یہ بات ایسے وقت میں کہی جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں آج (بروز جمعہ) ایک مشاروتی اجلاس منعقد کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے جس میں حوثیوں کی دہشت گردانہ کارروائیوں پر بحث کی جائے گی۔
انور قرقاش نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل برائے یمن کے خصوصی ایلچی ہانس گرنڈ برگ سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ امارات حوثی ملیشیا کی دہشت گردانہ کارروائیوں کے خلاف قانونی طور پر اپنے دفاع کا حق استعمال کرے گا۔ انہوں نے اس امر کی بھی وضاحت کی کہ اس سے قبل حوثیوں کی جانب سے جنگ بندی کے تمام مطالبوں کو مسترد کیا جاتا رہا ہے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
ٹیلی فونک گفتگو میں صدارتی مشیر نے مزید کہا ’حوثیوں کی جانب سے امارات پر حملے اور اماراتی جہاز ’روابی‘ کی ہائی جیکنگ و بحری قزاقی کے اعمال اس امر کا واضح ثبوت ہیں کہ حوثی معاملے کا سیاسی حل رد کر چکے ہیں۔‘
اماراتی صدر کے مشیر نے مزید کہا کہ ’حوثیوں نے الحدیدہ کی بندرگاہ کو بحری قزاقی کے اڈے میں تبدیل کرتے ہوئے اسے فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔‘ انہوں نے اس امر کا بھی اعلان کیا کہ ان کا ملک اپنی سرزمین کی سلامتی اور اسے دہشت گردی کی کارروائیوں سے دور رکھنے کے لیے ہرممکن اقدام کرے گا۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
دریں اثنا بعض سفارتی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ سلامتی کونسل کا اجلاس بند کمرے میں ہو گا۔ اجلاس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے ماہ رواں سلامتی کونسل کے صدرکو ایک خط پیش کیا گیا تھا جس میں حوثیوں کی جانب سے دہشت گردی کی کارروائیوں کے حوالے سے اجلاس طلب کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔