خلال عمل الجدارية

سعودی آرٹسٹوں نے ثمودی ڈرائنگ کو جمالیاتی پینٹنگ میں کیسےبدلا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے شمالی علاقے حائل میں سعودی فائن آرٹ کے فنکاروں نے دیواروں پرثمودی دور کے آرٹ کے نمونے تیار کرکے سیاحوں کی توجہ حاصل کی ہے۔ اس آرٹ میں ثمودی دور کے خاکے، عبارتیں اور نقوش شامل ہیں۔ مختلف رنگوں میں سجائی گئی یہ دیوارثمودی دور کی سماجی زندگی کا ایک اجمالی خاکہ پیش کرتی ہے۔

فائن آرٹ کی ماہر آرٹسٹ ایمان الفائد نے حائل میں ایک دیوارپر ثمودی خاکوں کو جمالیاتی شکل دی۔اس نے اسے’حائل اجمل‘کا عنوان دیا۔ اس کی اس کاوش میں حایل سیکرٹریٹ کا تعاون حاصل رہا۔ اس کے علاوہ دیوار کی پینٹنگ میں کئی دوسرے آرٹسٹوں نے بھی اس کی مدد کی۔

الفائد نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ دیوار 400 میٹر لمبی تھا اور یہ کئی نقشوں پر مشتمل ہے جو ثمود کے دور سے شروع ہونے والی حائل کی تاریخ اور تہذیب کے بارے میں بات کرتی ہے۔اس میں ثمود کی علامتیں ہیں۔ میں اور میری 8آرٹسٹ ساتھیوں کی ٹیم نے دیوار پر ڈیزائن اور پینٹ کیا۔

اس نے مزید کہاکہ ڈرائینگ ایک تجریدی فن ہے جبکہ اس میں خطاطی ثمودی دور تحریروں کے ساتھ کندہ ہے۔ اس کی علامتیں حائل کے پہاڑوں پرکندہ عبارتوں میں ملتی ہیں۔ دیوار کے کام میں پانچ دن لگے۔ ہم ہر روز چار گھنٹے کام کرتے۔ دیوار کے کام میں ایکریلک پلاسٹک پینٹ کا استعمال کیا گیا تھا۔

اقدام کا مقصد

الفائد نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد اس جگہ کو خوبصورت بنانا اور اسے ایک جمالیاتی شکل دینا ہے۔ اس کے علاوہ اس علاقے کی تاریخ اور ترقی کو متعارف کرانا ہے اور لوگوں کی توجہ حایل کے علاقے میں تاریخی نشانات کی طرف مبذول کرانا ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ آثار قدیمہ میں ثمودی نوشتہ جات آٹھویں صدی قبل مسیح سے ملتے ہیں۔ یہ وہ نوشتہ جات ہیں جو ثمودیوں کی سماجی زندگی کی تفصیلات بیان کرتے ہیں اور اس سماجی، یادگاری اور تجارتی زندگی کی کی جھلک ہیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں