MBS and Puten

روس اور یوکرین

روس اور یوکرین کے درمیان ثالثی کے لیے تیار ہیں: محمد بن سلمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یوکرین میں روسی فوجی آپریشن اپنے نویں دن میں داخل ہو رہا ہے۔ دوسری طرف عالمی سطح پر دونوں ملکوں کے درمیان مزید جنگ روکنے کے لیے ثالثی کی کوششیں بھی تیز ہوگئی ہیں۔ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن عبدالعزیز جو مملکت کے نائب وزیراعظم اور وزیر دفاع بھی نے کل جمعرات کو روسی صدر ولادی میر پوتین سے ٹیلیفون پر بات چیت کی۔

سعودی پریس ایجنسی "ایس پی اے" کے مطابق کال کے دوران انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

پرامن حل اور ثالثی پر آمادگی

فون پر بات کرتے ہوئے سعودی ولی عہد نے بین الاقوامی بحرانوں پر بھی بات کی۔ یوکرین میں جاری لڑائی کے حوالے سے ولی عہد نے دونوں ملکوں کے درمیان ثالثی کی کوششوں کی پیش کش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب تنازع کے حل کے لیے بات چیت اور مذاکرات کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کی سلامتی اور خود مختاری کا احترام کریں اور جنگ روک کر تنازع کو بات چیت کے ذریعے حل کریں۔

عالمی منڈی اور تیل کی قیمتوں کے حوالے سےشہزادہ محمد بن سلمان نے تیل کی منڈی کے توازن اور استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے مملکت کی خواہش کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اوپیک پلس معاہدے کے کردار اور اسے برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔

دریں اثنا یوکرین کے ایک سینیر اہلکار نے اعلان کیا ہے کہ کیف اور ماسکو نے جمعرات کو روسی فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد سے بات چیت کے دوسرے دور میں شہریوں کو نکالنے کے لیے انسانی بنیادوں پر راہداری قائم کرنے پر اتفاق کیا۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

دونوں وفود کے درمیان بات چیت جو پولینڈ کے قریب بیلاروسی سرحد پر بریسٹ کے پولیوسکایا پوچا علاقے میں ہو رہی ہےگذشتہ پیر کو شروع ہونے کے بعد جاری ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان پہلی ملاقات 28 فروری کو ہوئی تھی اور کوئی ٹھوس پیش رفت حاصل کیے بغیر ختم ہو گئی۔ یہاں تک کہ وہ دوسری ملاقات کرنے پر راضی ہو گئے جو جمعرات کو ختم ہوئی۔ دونوں فریق مذاکرات کا تیسرا دور اگلے ہفتے کے آغاز سے کریں گے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں