PHOTO-2022-07-21-08-15-26

ایتھلیٹکس کے عالمی مقابلے میں شرکت میرا اعزاز ہے:سعودی رنر یاسمین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی رنر یاسمین الدباغ نے امریکی ریاست اوریگون کے علاقے یوجین میں ایتھلیٹکس کی عالمی چیمپئن شپ میں تیسرے گروپ میں 100 میٹر کی دوڑ میں 13.21 سیکنڈ میں دوڑ مکمل کرکے ساتویں پوزیشن حاصل کی۔ اس کا کہنا ہے کہ اس مقابلے میں شرکت ہی میرا اعزاز ہے۔

اگرچہ اس نے کوالیفائرز کی تیسری سیریز ساتویں (آخری) مقام پر ختم کی اور اس طرح عالمی مقابلے میں اپنی مہم جوئی کو اختتام تک پہنچایا مگر اس کے لیے اس نوعیت کے عالمی مقابلے میں حصہ لینا ہی بڑی بات ہے۔ یاسمین نے اپنی شرکت کو ایک شاندار تجربہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی ایتھلیٹکس فیڈریشن نے الدباغ کی فتح کی خبر اپنے ’ٹویٹر ‘اکاؤنٹ پر پوسٹ کی تھی۔

الدباغ نے ریس کے بعد ایک پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ عام طور پر خلیجی لڑکیوں اور خاص طور پر سعودی خواتین کے لیے ایک نیا تجربہ تھا۔

یاسمین نے اس گروپ میں شامل ہونے پر اپنی بہت خوشی کا اظہار کیا جس میں جمیکا کی اولمپک چیمپئن ایلین تھامسن-ہیرا شامل ہیں۔ وہ 11.15 سیکنڈ کے وقت کے ساتھ سیریز میں سرفہرست رہی اور سیمی فائنل میں پہنچی۔

اس کے علاوہ سوشل میڈیا یاسمین دباغ کو غیرمعمولی پذیرائی ملی اور اسے سراہا گیا۔

قابل ذکر ہے کہ رنر یاسمین الدباغ نے جدہ سے ہائی اسکول میں تعلیم حاصل کی اور باسکٹ بال، تیراکی، والی بال اور جمناسٹک جیسے کئی کھیل کھیلے۔ اس کے علاوہ انہوں نے بیرون ملک کولمبیا یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور کولمبیا میں ایتھلیٹکس ٹیم میں شمولیت اختیار کی۔جہاں انہوں نے رنرکے طور پر اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔

سنہ 2019 میں اس نے سعودی عرب ایتھلیٹکس فیڈریشن کے ساتھ کام کیا، جہاں وہ قومی ٹیم میں شامل ہونا اور مقامی طور پر مقابلہ کرنا چاہتی تھیں۔

انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف ایتھلیٹکس فیڈریشنز کی جانب سے ٹوکیو 2020 اولمپکس میں شرکت کے لیے کوالیفائی کرنے کے اعلان کے بعد اس کا نام سعودی کھیلوں میں بالعموم اور خواتین کے کھیلوں میں بالخصوص شامل ہوا۔

جوائے ایوارڈز 2022 میں اس نے مصری کراٹےکا فریال عبدالعزیز، سعودی موٹرسائیکل ریسر دانیہ عقل اور سعودی اسپورٹس کار ڈرائیور ریما جفالی کو شکست دے کر فیورٹ اسپورٹس ایوارڈ بھی جیتا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں