ایرانی پولیس آفیسر فائل فوٹو: رائیٹرز

ایران: فٹ بالروں کی شراب نوش پارٹی سال نو کا جشن مناتے دھر لی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے دارالحکومت میں نئے سال کے موقع پر ایک پارٹی منعقد کرکے شراب پینے والوں کو حراست میں لے لیا گیا۔

حراست میں لیے گئے ایران کے اعلیٰ ترین فٹ کلب کے ارکان شامل تھے، تسنیم نامی خبر رساں ادارے کے مطابق جب ایرانی پولیس نے چھاپہ مارا تو پارٹی میں کئی شرکاء کی حالت خراب تھی اور نارمل نہیں تھے۔

تاہم بعد ازاں فٹ بال کے ساب کھلاڑیوں کو رہا کر دیا گیا ہے۔ البتہ ایک شخص جو فٹ بال کا کھلاڑی نہیں ہے اسے رہا نہیں کیا گیا ہے۔ پولیس کی طرف سے معاملے پر مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔

ایران میں بعض قوانین سماجی حوالے سے اسی طرح کے ہیں جنہیں بعض طبقات پسند نہیں کرتے۔ ان میں شادی کے بغیر کسی خاتون کے ساتھ تعلق رکھنا اور شراپ نوشی کرنا وغیرہ شامل ہیں۔ پچھلے سال ماہ ستمبر میں مہسا امینی کو ابھی سر پر عوامی مقامات پر دوپٹہ نہ لینے پر اسی طرح کے سماجی قوانین کی وجہ سے گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد اب تک ایران کو احتجاجی مظاہروں اور عالمی طاقتوں کی طرف سے سخت تنقید کا سامنا ہے۔

31 دسمبر کی رات ایک پارٹی میں شراب نوشی کا اہتمام کرنے کا واقعہ دارالحکومت تہران کے مشرقی علاقے میں پیش آیا، جس کی اطلاع ملنے پر ایرانی پولیس موقعہ پر پہنچ گئی۔ پارٹی ایران میں فٹ بال کے حوالے سے ایک نامی گرامی کلب کے ارکان جمع تھے اور نئے سال کی آمد کی خوشی میں ناو نوش میں مصروف تھے۔

سرکاری طور پر ابھی یہ نہیں بتایا گیا کہ اس واقعے میں کل کتنے افراد کو فوری طور پر حراست میں لیا گیا اور ان حراست میں لیے گئے افراد میں کون کون سے فٹ بالر شامل تھے۔ ایرانی فٹ بال فیڈریشن یا متعلقہ فٹ بال کلب نے بھی ابھی تک اس بارے میں کوئی تبصرہ یا رد عمل طاہر نہیں کیا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں