وزیر اعظم نیتن یاہو اپنی اہلیہ سارہ کے ہمراہ
نیتن یاھو کی اہلیہ اسرائیلی حکومت کے اہلکاروں کی تقرری میں مداخلت کا انکشاف
اسرائیل کے سابق وزیر خزانہ اور دفاع ایویگڈور لائبرمین نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نیتن یاہو کی اہلیہ سارہ اپنے شوہر کے ادوار حکومت میں سیاسی اور پیشہ ورانہ تقرریوں میں معمول کے مطابق شامل رہتی تھیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق لائبرمین نے نیتن یاہو کے سابق وکیل اور دوسرے کزن ڈیوڈ شمرون کی طرف سے دفاعی صنعت کے سابق اہلکار اور ایکسپورٹ انسٹی ٹیوٹ کے سابق سربراہ ڈیوڈ آرٹزی کے خلاف لائے گئے ہتک عزت کے مقدمے کے دوران عدالت میں گواہی دی۔
آرٹزی نے الزام لگایا کہ شمرون نے نیتن یاہو اور ان کی اہلیہ کے درمیان 1990 کی دہائی میں 15 صفحات پر مشتمل ایک "خفیہ معاہدے" کا مسودہ تیار کیا جس میں سارہ کو قومی معاملات کے کلیدی پہلوؤں پر وسیع کنٹرول دیا گیا۔ اس معاہدہ کے تحت نیتن یاھو کی اہلیہ کو سینئر تقرریوں پر ویٹو پاور اور سیکورٹی پر بحث میں حصہ لینے کا حق بھی حاصل تھا۔
شمرون اور نیتن یاہو نے الزامات کی تردید کی ہے۔ شمرون نے آرٹزی کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وہ مارچ 2021 میں 4 لاکھ 25 ہزار جو تقریبا ایک لاکھ 21 ہزار ڈالر بطور ہرجانہ ادا کرے۔
عدالت نے یسرائیل بیٹینو پارٹی کے رہنما لائبر مین سے پوچھا کہ کیا سارہ نیتن یاہو نے تقرریوں میں مداخلت کی تو انہوں نے جواب دیا "جی ہاں" انہوں نے کہا "ہمیں لیکوڈ پرائمری میں ایک سیکرٹری کی منتقلی کے لیے براہ راست فون کالز موصول ہوئیں کہ یہ وہ (یعنی سارہ) اسے پسند نہیں کرتیں۔ کیا سارہ کی طرف سے تقرریوں میں فعال مداخلت تھی؟ تو جواب میں کہا گیا ’’ہاں بالکل‘‘ ۔
لائبرمین نے نیتن یاہو کے تحت 1993 سے 1996 تک لیکود پارٹی کے ڈائریکٹر جنرل اور 1996 سے 1997 تک وزیر اعظم کے دفتر کے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر خدمات انجام دیں۔ اسی طرح لائبرمین 2009 سے بھی کئی کابینہ عہدوں پر نیتن یاہو کے ماتحت رہ چکے ہیں، حال ہی میں 2016 سے 2018 تک وہ وزیر دفاع رہے تھے۔
ہاٹ ٹیپ سکینڈل
نیتن یاھو اور سارہ کے درمیان خفیہ معاہدے کے الزامات کا تعلق اسرائیلی وزیراعظم کے اپنی اہلیہ کے علاوہ کسی دوسری خاتون سے تعلقات کے سکینڈل سے ہے جس کا اعتراف انہوں نے 1993میں کیا تھا۔ اس سکینڈل کو’’ہاٹ ٹیپ‘‘ کیس کے نام سے جانا جاتا ہے۔ الزامات کے مطابق اس واقعے کے بعد میاں بیوی کے درمیان معاہدہ ہوا تھا اور اس معاہدے نے وزیراعظم کی اہلیہ کو سیاسی زندگی کے کئی پہلوؤں میں اپنے شوہر کے فیصلوں پر بڑا اختیار دیا تھا۔
عدالتی سیشن کے دوران اتوار کو لائبرمین سے پوچھا گیا کہ کیا نیتن یاہو کے تعلقات کے عوامی اعتراف کے بعد ان کی اہلیہ کے ساتھ رویے میں کوئی تبدیلی آئی ہے تو لائبر مین نے نفی میں جواب دیا اور وضاحت کی کہ ان کے درمیان ایک معاہدے کی افواہیں تھیں، اور یہ ایسی چیز نہیں ہے جس کے بارے میں میں جانتا ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سارہ تعلقات سے پہلے اور بعد میں سینئر تقرریوں سے متعلق فیصلوں میں شامل تھیں۔
"اسرائیل بیتنا" پارٹی کے سربراہ نے اشارہ دیا کہ 2009 میں "ایلون پنکاس" کو اقوام متحدہ میں اسرائیل کا نیا سفیر مقرر کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ لائبرمین نے کہا "اقوام متحدہ میں سفیر مقرر کرنے سے پہلے میں نے نیتن یاہو سے ایلون پنکاس کے متعلق بات کی تھی۔ انہوں نے کہا ٹھیک ہے۔ کابینہ کے اجلاس سے ایک دن پہلے مجھے کابینہ سیکرٹری کا فون آیا کہ نیتن یاہو نے تقرری کی مخالفت کی اور اسے ایجنڈے سے ہٹانے کو کہا ہے۔
نیتن یاہو کے سابق معاون نیر ہیفیٹز نے کہا کہ پنکاس کی تقرری براہ راست سارہ نے خراب کی تھی۔ آرٹزی کے وکیل کی طرف سے خاص طور پر پوچھے جانے پر کہ کیا یہ بات سچ ہے، لائبرمین نے کہا کہ مجھے تمام تفصیلات یاد نہیں لیکن یہ عام طور پر سچ ہے۔میں نے اس واقعے پر ان سے براہ راست نہیں سنا، لیکن آپ اس سے انکار نہیں کر سکتے۔ سارہ نیتن یاہو متحرک تھیں اور تقرریوں میں مداخلت کرتی تھیں۔ سابق وزیر نے مزید کہا کہ نیتن یاہو سارہ پر بہت توجہ دیتے تھے، جب میں نے انہیں فون پر چیختے ہوئے سنا تو میں جانتا تھا کہ سارہ ان کے ساتھ کھڑی ہے۔
گزشتہ ہفتے ایک ریٹائرڈ آئی ڈی ایف کے اعلیٰ عہدے دار میجر جنرل گائے زور نے عدالت میں ایک انٹرویو کے حوالے سے گواہی دی جو انہوں نے 2012 میں وزیراعظم کے ملٹری سیکرٹری کے عہدے کے لیے دیا تھا۔ انہوں نے کہا وزیراعظم آئے اور بیٹھ گئے اور مجھ سے ایک سوال پوچھا۔ پھر سارہ آئی اور مجھ سے پانچ منٹ تک بیٹھ کر بات کرتی رہی۔ بعد میں وزیر اعظم واپس آئے، معافی مانگی اور کہا کہ ہم نے کافی بات کر لی ہے اور میٹنگ ختم کر دی۔ وزیر اعظم نیتن یاہو کی اہلیہ سارہ مجھے لگا جیسے میں نے سارہ کو انٹرویو دیا ہے اور اس کی وجہ سے مجھے نوکری نہیں ملے گی، پھر ایسا ہی ہوا دو دن بعد میں خبر مل گئی کہ مجھے ملٹری سیکرٹری نہیں بنایا گیا۔