القدس میں یہودی بستی بنی یعقوب میں فائرنگ کے بعد
اسرائیل میں یہودیوں کی انتقامی کارروائیوں کا خطرہ، حکام نے خبردار کردیا
فلسطین اور اسرائیل میں حالیہ کشیدگی سالوں میں سب سے شدید ہوگئی
فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے، اس حوالے سے عالمی انتباہات کے درمیان اسرائیلی سیکورٹی حکام نے دائیں بازو کے انتہا پسند کارکنوں کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کے امکان سے خبردار کردیا۔
عبرانی ویب سائٹ ’’ والا‘‘ کے مطابق القدس شہر میں ہونے والی مسلح کارروائی کے رد عمل میں یہ انتباہ جاری کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہودی انتہا پسندوں کی انتقامی کارروائیوں کے خدشات بہت زیادہ ہیں اور ایسی کارروائیوں سے خطے میں آگ لگ سکتی ہے۔ رپورپ میں اسرائیلی حکومت کو فلسطینیوں کے خلاف مزید کارروائیوں سے رکنے کا بھی کہا۔
اسی تناظر میں دیگر اسرائیلی میڈیا رپورٹس نے مغربی کنارے اور القدس میں سکیورٹی کشیدگی کو نئی اسرائیلی حکومت کے لیے ایک عظیم امتحان قرار دیا۔ انہوں نے اس امکان کی نشاندہی کی کہ یہ تناؤ فلسطینی بغاوت کی سطح بڑھنے کا سبب بن سکتا ہے۔
یاد رہے کہ نیتن یاہو نے اعلان کیا تھا کہ ان کی حکومت نے القدس شہر اور اس شہر کی جانب جانے والی رابطہ سڑکوں کے قریب علاقوں میں مدد کے لیے اسرائیلی فوج کی کمپنیوں کے ساتھ اسرائیلی پولیس کو مزید قوت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاھو کو اندرونی مسائل کا بھی سامنا ہے ۔ تاہم نتین یاھو نے کہا کہ انہوں نے قومی سلامتی کے ادارے کے سربراہ بین گویر کو ہدایت کی ہے کہ وہ مسلح کارروائیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مزید اقدامات پر غورکریں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج نے خود کو تصادم کے لیے تیار کر لیا ہے اور اسرائیلی فوج پیش آنے والے کسی بھی منظر نامے کے لیے تیار ہے۔ اتوار کی صبح اسرائیلی گارڈز نے مغربی کنارے کے شہر قلقیلیہ کے قریب کدومیم بستی کے قریب ایک فلسطینی کو شہید کردیا تھا۔