Your browser doesn’t support HTML5 video

مغربی تہران میں دھماکے: پاسداران انقلاب کے ایک رہنما کو نشانہ بنانے کی خبریں

کرج میں دھماکوں کی آوازیں فوجی مشقوں کی وجہ سے ہوئی ہیں: تہران ، ایک کار کو  نشانہ بنایا گیا: ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جمعرات کی شام تہران کے مغرب میں کرج کا علاقہ دھماکوں سے لرز اٹھا۔ ایران نے تصدیق کی ہے کہ یہ دھماکے تربیت کی وجہ سے ہوئے ہیں۔ دیگر ذرائع نے اطلاع دی کہ ڈرون حملے میں ایک فوجی عہدیدار کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

کرج سے موصولہ رپورٹ کے مطابق جمعرات کی رات تقریباً 11 بجے یکے بعد دیگرے دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ان دھماکوں کے بعد ایئر ڈیفنس نے ڈرونز پر فائرنگ کی جس پر انہیں شبہ تھا۔ اس کے بعد البرز پہاڑوں کے قریب تہران کے میدان کے فضائی دفاع کو فعال کر دیا گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر سرگرم کارکنوں کی پوسٹ کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب سے تعلق رکھنے والے دو مقامات پر دو دھماکے ہوئے ہیں ۔ بتایا گیا ہے ایمبولینسیں دھماکوں کی جگہ کی طرف جا رہی تھیں۔ تاہم ایرانی حکام نے فوری طور پر اس خبر کی تردید کردی اور ایک بیان میں کہا کہ ہیلی کاپٹروں کی لینڈنگ اور ٹیک آف، طیارہ شکن میزائلوں کے داغنے اور آج رات سنائی دینے والی آوازیں صرف ایک چال چلانے سے متعلق ہیں۔ شہریوں کو پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ یہ مشق بدھ سے ہو رہی ہے جس کا مقصد ہنگامی حالات میں ایگزیکٹو، رابطہ کاری اور قیادت کے اداروں کو تیار کرنا ہے۔ یہ جگہ ایک تربیتی بیرک ہے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

تاہم ایرانی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ کرج میں عظیمیہ پارک کے قریب ڈرون حملے میں ایک کار کو نشانہ بنایا گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ پاسداران انقلاب کے یونٹ 400 کے کمانڈر کو نشانہ بنایا گیا جو گاڑی میں سوار تھے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں